سندھ اسمبلی میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے معصوم ابراہیم کے معاملے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ قائد حزبِ اختلاف کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم ارکان واک آؤٹ کر گئے۔
اجلاس کے آغاز میں بچے کے لیے دعا کی گئی۔ ایم کیو ایم کے افتخار عالم نے کہا کہ “کراچی کے بچے کب تک گٹروں میں گرتے رہیں گے؟” جبکہ جماعت اسلامی کے فاروق نے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ بی آر ٹی ریڈ لائن پر تیسرا سانحہ ہے۔
پی ٹی آئی کے ریحان بندوکڑا جذباتی ہو گئے اور بچے کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ “سوچیں یہ آپ کے بیٹے کے ساتھ ہوتا تو کیا ہوتا”—ارکان اسمبلی آبدیدہ ہوگئے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے واقعے کو المناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 88 ہزار مین ہولز پر ڈھکن لگائے گئے ہیں، اور جس بھی افسر کی کوتاہی ثابت ہوئی اسے سخت سزا ملے گی۔
ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن لیڈر کو بات کی اجازت موخر کی، جس پر ایم کیو ایم کے ارکان ناراض ہو کر ایوان سے نکل گئے۔
اجلاس میں ترقیاتی کاموں، مین ہولز، پارکس، کچرے اور ماحولیات سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس بھی زیرِ بحث آئے، جبکہ مختلف ارکان نے شہر میں ناقص انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اسپیکر نے متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز کی غیر حاضری پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سے وضاحت طلب کرنے کی رولنگ دی۔
اجلاس منگل دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔






