سردیوں میں مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی نہ پینے کی بات،حقیقت کیا ہے؟

0
1245

سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی جیسے ہی دھوپ کی تپش کم پڑتی ہے، لوگ خشک میوہ جات کا استعمال بڑھا دیتے ہیں۔ انہی میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اور عام دستیاب چیز مونگ پھلی ہے۔ تاہم مونگ پھلی کھانے کے بعد پانی نہ پینے کا ایک عام خیال آج بھی موجود ہے۔

بزرگوں کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کے بعد پانی پینے سے گلے میں خراش یا کھانسی ہو سکتی ہے، لیکن سائنسی طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکیموں کا ماننا ہے کہ مونگ پھلی میں موجود تیل اور اس کی خشک ساخت پانی کے ساتھ مل کر گلے میں جلن یا پیاس بڑھا سکتی ہے، اس لیے لوگ احتیاطاً پانی پینے سے گریز کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس خیال سے ضرورت سے زیادہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، البتہ احتیاط فائدہ مند ہے۔

مونگ پھلی صرف موسمِ سرما کی پسندیدہ خوراک نہیں بلکہ غذائیت کا بھرپور خزانہ بھی ہے۔

دل کی صحت کے لیے مفید

مونگ پھلی میں موجود اجزا دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور کولیسٹرول کو کنٹرول رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

وزن میں کمی میں مددگار

اس میں چکنائی نسبتاً کم جبکہ پروٹین اور فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جس سے یہ وزن کم کرنے والوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ البتہ اعتدال ضروری ہے۔

پروٹین کا مضبوط ذریعہ

سو گرام مونگ پھلی میں تقریباً 25 گرام پروٹین پایا جاتا ہے، جو جسمانی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہے۔ مونگ پھلی کا مکھن بھی پروٹین کا بہتر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

بلڈ شوگر کنٹرول میں معاون

مونگ پھلی کم گلیسیمک فوڈ ہے، یعنی یہ بلڈ شوگر لیول پر آہستہ اثر ڈالتی ہے۔ اسی لیے ذیابیطس کے مریض بھی اسے مناسب مقدار میں اپنی خوراک میں شامل کر سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ مونگ پھلی نہ صرف لذیذ ہے بلکہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ البتہ سردیوں میں اسے کھانے کے بعد پانی کے استعمال میں ہلکی سی احتیاط گلے میں جلن یا کھانسی سے بچا سکتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا