راولپنڈی (نعمان حیدر)پنجاب میں شراب کی خرید و فروخت پر عائد وینڈ فیس اور سٹل ہیڈ پر مبنی ایکسائز ڈیوٹی کے نظام میں کروڑوں روپے ماہانہ کی ہیر پھیرکی باز گشت سنائی دیتی ہے ۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب، راولپنڈی ڈائریکٹوریٹ کے کچھ اہلکاروں اور افسران نے ایل۔ٹو لائسنس ہولڈر ہوٹلزاور بار مینیجرز کے ساتھ گٹھ جوڑ بنا کر ایک منظم طریقے سے سرکاری ریونیو کو ریوڑیوں کی طرح باہم بانٹ کرتے ہیں۔قانون کے مطابق شراب کی ہر کنسائنمنٹ کی ترسیل سے پہلے سٹل ہیڈ ڈیوٹی جمع کرانا لازمی ہے، جبکہ وینڈ فیس اصل فروخت کی بنیاد پر، ہر دس دن بعد رپورٹ ہونے والے سیلز ڈیٹا کے مطابق وصول کردہ جمع کروانا ہوتی ہے۔لیکن پنجاب کے زیادہ ترمتعلقہ ہوٹلز میں عملی صورتحال اس کے برعکس ہے سٹل ہیڈ ڈیوٹی پیشگی جمع کرائی جاتی ہے
مگر وینڈ فیس مشکوک ہے یا تو جمع نہیں ہوتی یا کم کرائی جاتی ہے تاکہ خانہ پُری ہو جائے اور اس مد میں کروڑوں روپے حکومتی خزانے میں جانے کے بجائے مخصوص جیبوں میں منتقل کر لیئے جا ہیں۔ذرائع کے مطابق اگر صرف پچھلے تین سال کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تو پنجاب حکومت اربوں روپے کی ٹیکس آمدنی آسانی سے حاصل کر سکتی ہے۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی۔سی راولپنڈی اور پی۔سی بھوربن مری سے اکٹھی ہونے والی سٹل ہیڈ ڈیوٹی اوروینڈ فیس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو گھناؤنی واردات کے اصل کردار بے نقاب ہو سکتے ہیں۔مری میں غیر مسلم آبادی اور بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد کو سامنے رکھ کر شراب کی فروخت کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کھپت اور ریکارڈ کی گئی فروخت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ فرق اُس ’’سیٹنگ‘‘ کی نشاندہی کرتا ہے
جس کے ذریعے سرکاری خزانے کو ماہانہ کروڑوں کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔پنجاب اور اسلام آبادمیں PMFLوینڈفیس فی کارٹن 5750روپے وصول کی جاتی ہے جبکہ بئیرپر وینڈفیس 3450روپے ہے اسی طرح شراب پر سٹل ہیڈایل۔پی۔گیلن 1380ہے جبکہ بئیر پرسٹل ہیڈڈیوٹی فی لیٹر28.75 روپے ہے دوسری جانب بلوچستان اورسندھ کی حکومتیں وینڈفیس وصول نہیں کرتین تاکہ غریب غیرمسلموں کوسستی شراب مہیاکی جاسکے مگر پنجاب ایکسائزراولپنڈی کے متعلقہ افسران نے ہوٹل مالکان اورچند دیگربااثرافرادنے اسکوکمائی کاذریعہ بنارکھاہے اورخاموشی سے باریک واردات ڈال رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان صوبوں سے آنے والی بڑی مقدار میں شراب ٹیکس فری،ریکارڈ سے باہرسمگل ہو کر جنوبی پنجاب میں فروخت ہوتی ہے۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سمگلنگ میں مقامی ایکسائز افسران اور ملازمین بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں جس سے پنجاب کا ریونیو گر رہا ہے؟ کیوں کہ پچھلے چند سالوں سے پنجاب حکومت کو شراب کی ایکسائز ڈیوٹی کے اہداف میں کمی کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے ہوٹلز، خاص طور پر لاہور کے بڑے ہوٹلز،سندھ اور بلوچستان سے ٹیکس فری شراب منگوا رہے ہیں۔ اس سے پنجاب کا ریونیو براہ راست متاثر ہوتا ہے، جبکہ فائدہ مخصوص لابی اٹھا رہی ہے۔
پنجاب میں غیر مسلم کو ماہانہ 12 یونٹ PMFL خریدنے کی اجازت ہے کیا یہ فیصلہ عملی حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے؟محکمہ ایکسائز نے ریونیو بڑھانے کی غرض سے غیر مسلم پرمٹ ہولڈرز کے لیے ماہانہ 12 یونٹ پاکستان میڈ فارن لیکر کی خریداری کی حد مقرر کر رکھی ہے۔ سوال یہ ہے کیا پنجاب میں بسنے والے 4 سے 5 فیصد غیر مسلموں کی آمدن اتنی ہے کہ وہ ماہانہ بارہ بڑی بوتلیں خرید سکیں؟ اور کیا یہ مقدار انسانی صحت کے لیے مضر نہیں؟ پھر آخر یہ بوتلیں کہاں جا رہی ہیں؟ کس کو بیچی جا رہی ہیں؟اس کا سیدھا مفہوم یہی ہے کہ پرمٹ کے نام پر بوتلیں مارکیٹ میں کھلے عام، بغیر ریکارڈ بلیک میں فروخت ہو رہی ہیں۔
محکمہ ایکسائز راولپنڈی کا موقف ہے کہ شراب کی پروکیورمنٹ مری بروری فیکٹری کے ذمے ہے، ہم صرف ریگولیٹری امور دیکھتے ہیںجبکہ فیکٹری انتظامیہ نے شراب کی ترسیل کے لیے تین ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو ٹھیکہ دے رکھا ہے جن میں فیضان مصطفی،،فاران اور آزاد مسلم شامل ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہی کمپنیوں کے ذریعے سندھ و بلوچستان کی شراب ریکارڈ سے باہرپنجاب میں داخل کی جاتی ہے۔دوسری جانب پنجاب حکومت کے پاس ریونیو بڑھانے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں ۔موٹر وہیکل ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس مگر شراب کے نام پر چلنے والا یہ پورا نظام ایک اَن لکھی فائل کی طرح چند بااثر ہاتھوں کے درمیان گردش کر رہا ہے۔
کیامحکمہ ہذا کے متعلقہ افسران بتانا پسند فرمائیں گے کہ سال 2023-24اور2024-25سمیت 2025کے آخری پانچ ماہ میں ہرہوٹل نے بالترتیب کتنی سٹل ہیڈفیس جمع کروائی اوراس فیس کے تقابل کنسائنمنٹس یامقدارکے تقابل میں کتنی وینڈفیس جمع کروائی ۔اس حوالے سے متعلقہ بینک سے ریکارڈنکلوایاجائے۔ بہتر تویہ ہوگاکہ ڈی۔جی ایکسائزاس حوالے سے ایک جامع انکوائری کروائیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کتنی لوٹ مارکی گئی ہے۔پنجاب کے عوام جانناچاہتے ہیںکیا وزیرِ اعلیٰ پنجاب اس مافیا کے خلاف ایکشن لیں گے یا یہ کھیل اسی طرح چلتا رہے گا؟






