اربن ایج پرائیوٹ لمیٹڈ کی انوکھی وار دات، اربوں لوٹ لئے

0
1009

اسلام آباد(حفیظ درویش ) اسلام آباد کے سیکٹر جی 15- میں اربن ایج پرائیوٹ لمیٹڈکمپنی نے انوکھی واردات کرتے ہوئے قسطوں پر گاڑیاں دینے کا جھانسہ دےکر سینکڑوں شہریوں سے کروڑوں روپے لوٹ لئے۔ اگست 2025 کے وسط میں اربن ایج کا دفتر اسلام آباد کے علاقے جی- 15 میں کھولا گیا ۔ معصوم لوگوں کو گمراہ کرنے کےلئے سب سے پہلے یہاں پر کاپوریٹ طرز کا ایک شاندار آفس بنا یا گیا۔ اربن ایج نامی کمپنی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کرائی گئی۔ کمپنی مالکان کے خانے میں راولپنڈ ی کے رہائشی سید مجتبیٰ شاہ اور اختر سہیل رہائشی کے نام درج ہیں ۔ کمپنی کا این ٹی این بھی بنوایا گیا اور بینک اکاؤنٹ کھول لیا۔

اس کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے مارکیٹنگ کی گئی کہ کم شرح سود پر گاڑیاں قسطوں پر حاصل کریں جبکہ شرائط بھی نرم رکھی گئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گھیر کر فراڈ کا نشانہ بنایا جاسکے۔کمپنی میں مالکان سمیت 15 سے 20 لوگ کام کررہے تھے ۔ کمپنی نے 13 نومبر 2025 تک لوگوں سے کروڑوں روپے لوٹ لئے تھے۔ اس دوران یہاں کام کرنے والی ایک لڑکی کو اس فراڈ کا اپنے دوست کے ذریعے پتہ چلا جو کہ کمپنی کا پرانا ملازم تھا ۔

پرانے ملازم نے دوستی کی وجہ سے فرط جذبات میں بہہ کر لڑکی کو ساری حقیقت بتا دی۔ جس کے بعد اس لڑکی نے تمام لوگوں کو مسیج کردیا کہ آپ کےساتھ فراڈ ہورہا ہے۔جس کے نتیجے میں 12 نومبر 2025 کو لوگوں نے دفتر آکر اپنے پیسے واپس مانگنا شروع کردیے ۔ جس پر کمپنی انتظامیہ نے انہیں بہلا پھسلا کر واپس بھیج دیالیکن دوسرے دن لوگوں نے ایک بار پھر دفتر کا رخ کرلیا جس کے بعد ایک ایک کرکے انتظامیہ سمیت باقی تمام سٹاف فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

کمپنی میں ملازمت کرنے والے ایک لڑکے کا کہنا ہے کہ کمپنی مالکان کے علاوہ کچھ اور کردار بھی ہیں جو اس طریقے سے ملک کے دیگر بڑے شہروں میں فراڈ کرچکے ہیں۔ کمپنی مالکان میں بابر اور قاسم ہیں اور قاسم سمیر کے نام سے کام کرتا تھا ۔ایک لڑکی رابعہ اور اس کا بھائی مصطفی عرف ارسلان بھی کمپنی کے ساتھ کئی سالوں سے کام کررہے ہیں۔ بتول نامی لڑکی خریداروں کے ساتھ ڈیل کلوز کرنے اور بعد میں انہیں لارے دینے کا کام کرتی ہے۔

امان عرف احمد بھی اس آفس کا حصہ تھا جو کہ اس گروہ کا پرانا ممبر ہے۔ ملازم کا مزید کہنا تھا کہ جس دن لوگوں نے دفتر پر دھاوا بولا تو بابر اور قاسم نے باقی سٹاف کو کہا کہ ایف آئی اے کا چھاپہ پڑنے والا ہے اس لئے سارے غائب ہوجاؤ۔ ملازم نے یہ بھی انکشاف کیاہے کہ یہ اسلام آبا د میں ان کا پہلا دفتر نہیں تھا۔ اس سے قبل یہ گروہ کراچی، لاہور، فیصل آباد اور پشاور میں بھی اسی طرح کی واردات کرکے لوگوں سے اربوں روپے لوٹ چکے ہیں جبکہ ایک نیا آفس سیالکوٹ میں بنارہے ہیں تاکہ مزید لوٹ مارکرسکیں۔ مزید تفصیلات قارئین تک پہنچانے کیلئے انوسٹی گیشن جاری ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا