گیس کا بحران — عوام کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ

0
184

ہنزلہ نعیم

پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ جس مسئلے نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، وہ ہے گیس کی کمی۔ سردی بڑھتے ہی گیس کا پریشر کم ہونا، شام کے وقت گیس کا غائب ہو جانا، اور کھانا پکانے کے لیے سلنڈر ڈھونڈنے کی دوڑ—یہ سب آج کل ہر گھر کی کہانی ہے۔

گھر ہو، ہوٹل ہو، فیکٹری ہو یا چھوٹی دکان… سب کی ایک ہی فریاد ہے:
“گیس نہیں آ رہی، اب کیا کریں؟”

روزمرہ کے کام ٹھپ ہو گئے ہیں

صبح کے وقت چولہا جلتا نہیں، بچے اسکول کے لیے ناشتہ نہیں کر پاتے۔
شام کو کھانا پکانے کے وقت گیس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ برتن گھنٹوں چولہے پر پڑے رہتے ہیں۔
جو لوگ دفتر یا مزدوری پر جاتے ہیں، وہ بھی پریشان ہوتے ہیں کہ گھر آ کر کھانا ملے گا بھی یا نہیں۔

یہ مسئلہ صرف تکلیف نہیں—ایک طرح کا روزانہ کا ذہنی دباؤ بن چکا ہے۔

متبادل حل بھی مہنگے

جہاں گیس نہیں آتی، وہاں لوگ سلنڈر یا بجلی والے چولہے استعمال کرتے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ:
سلنڈر پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا ہے
بجلی کا بل ویسے ہی سب کو پریشان کیے ہوئے ہے
لکڑی یا کوئلہ استعمال کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں

یعنی گیس کی کمی نے لوگوں کے اخراجات بھی کئی گنا بڑھا دیے ہیں۔

چھوٹے کاروبار سب سے زیادہ متاثر

نان بائی، ہوٹل والے، بیکری مالکان، چائے کے ہوٹل… سب کی دکانیں گیس کے بغیر نہیں چل سکتیں۔
پریشر کم ہو تو کام سست ہو جاتا ہے، گیس بند ہو جائے تو کاروبار رک جاتا ہے۔
کئی لوگ روزانہ ہزاروں کا نقصان برداشت کر رہے ہیں۔

عام آدمی کی سب سے بڑی آواز: “ٹائم ٹیبل بنا دو!”

عوام یہ نہیں کہتی کہ 24 گھنٹے گیس چاہیے۔
ان کا صرف اتنا مطالبہ ہے:

“کم از کم کوئی ٹائم ٹیبل دے دو، تاکہ ہمیں اندازہ ہو کس وقت گیس آئے گی۔”

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ
کبھی صبح ہوتی ہے، کبھی رات، کبھی پورا دن… بندش کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں۔

یہ مسئلہ کب حل ہوگا؟

فی الحال حالات یہی بتاتے ہیں کہ اگلے کچھ مہینوں میں گیس کی صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
زیادہ تر گھروں میں لوگ پہلے ہی اپنی روٹین بدل رہے ہیں:
کچھ لوگ صبح جلدی کھانا بنا لیتے ہیں، کچھ رات کو بجلی والے چولہے پر کھانا گرم کرتے ہیں۔

نتیجہ

گیس کا بحران صرف ایک “یوٹیلٹی ایشو” نہیں رہا
بلکہ ایک ایسا مسئلہ بن گیا ہے جس نے ہر گھر کی زندگی اور ہر کاروبار کی رفتار بدل دی ہے۔
جب تک گیس کی فراہمی کا کوئی واضح اور مستقل نظام نہیں بنتا، تب تک عوام کی مشکلات کم ہونا مشکل ہے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا