نواز شریف کو ہٹانے اور بانی پی ٹی آئی کو لانے کے پراجیکٹ کے انچارج فیض حمید تھے، خواجہ آصف

0
499

سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نواز شریف کو ہٹانے اور بانی پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کے پراجیکٹ کے انچارج سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید تھے، جن کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سیالکوٹ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف 15 ماہ تک کارروائی چلا کر سزا سنائی گئی، جبکہ اب مزید قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید اب جنرل نہیں رہے اور ان سے جنرل کا ٹائٹل بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بانی پی ٹی آئی کا پراجیکٹ 10 سے 12 سال قبل شروع کیا گیا، جس پر عملدرآمد فیض حمید کی سربراہی میں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ہٹانے اور بانی پی ٹی آئی کو لانے کے منصوبے کے اصل انچارج فیض حمید تھے۔ فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی نے مل کر سازش کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچایا، اپنے دور میں تمام سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور قید و بند کا سلسلہ فیض حمید کی ہدایات پر چلتا رہا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے چار سالہ دور کو فیض حمید نے تقویت دی اور دونوں نے مل کر ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس بھی موجود ہے، بانی پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانا، نواز شریف کو قید اور جلاوطن کرنا، ان تمام اقدامات کے پیچھے فیض حمید کا کردار تھا، جبکہ ان کاموں کا اصل فائدہ خود فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کو پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے دور میں آئی ایس آئی کو فیض حمید کا ذیلی ادارہ بنا دیا گیا، بانی پی ٹی آئی کے گھر کے لان میں بیٹھ کر ملک کے مستقبل سے متعلق فیصلے ہوتے رہے۔ جن بیساکھیوں پر بانی کھڑے تھے وہ اب آہستہ آہستہ کھسکنا شروع ہوچکی ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ فیض حمید نے ہمیشہ بانی پی ٹی آئی کو سہارا دینے کی کوشش کی، بعد ازاں 9 مئی کے واقعات پیش آئے جن کے پیچھے سوچ فیض حمید کی اور عمل پی ٹی آئی کارکنوں کا تھا۔ 9 مئی کے واقعات کے پس منظر میں بھی فیض حمید ہی کا کردار تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا