لندن میں برطانوی حکومت نے امریکا پر دفاعی انحصار ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ نے بڑے پیمانے پر ممکنہ جنگ کی تیاری شروع کر دی ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق یورپ میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفاعی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔
برطانیہ کی مسلح افواج کے وزیر کرنل ایسکاٹ کارنز نے کہا ہے کہ جنگ کے سائے یورپ کے دروازے پر منڈلا رہے ہیں اور برطانیہ کو ہر صورت تیار رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران برطانیہ کے خلاف دشمن انٹیلیجنس سرگرمیوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جو ایک سنگین انتباہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ نیٹو ممالک کو اپنی جنگی تیاریوں کے لیے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ کرنل کارنز کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں سے برطانیہ نے اپنے دفاع کا انحصار امریکا پر رکھا ہوا تھا، تاہم اب اس پالیسی کو ترک کرتے ہوئے خود انحصاری کی جانب بڑھنا ہوگا۔
برطانوی حکومت نے دشمن ریاستوں کی جاسوسی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئی ڈیفنس کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی خطرات کی بروقت نشاندہی اور مؤثر جواب دینا ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیٹو کے سربراہ نے یورپی اتحادیوں کو روس کے ساتھ ممکنہ بڑے تصادم کے لیے تیار رہنے کا انتباہ دیا ہے، جسے شدت کے اعتبار سے عالمی جنگوں جیسے حالات سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔





