واشنگٹن میں تیار کی گئی پینٹاگون کی ایک انتہائی خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر تائیوان پر جنگ کی صورت میں امریکہ نے براہِ راست مداخلت کی تو چین کے ہاتھوں اس کی شکست کا امکان بہت زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین امریکی فضائی، بحری اور سیٹلائٹ صلاحیتوں کو تنازع کے آغاز ہی میں مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جنگی مشقوں کے مطابق چین طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانہ زن میزائلوں، جدید جنگی طیاروں، بحری جہازوں اور خلا میں کارروائی کی صلاحیت کے ذریعے خطے میں واضح آپریشنل برتری حاصل کر چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے پاس تقریباً 600 ہائپرسونک ہتھیار موجود ہیں جنہیں روکنا انتہائی مشکل ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ امریکہ مہنگے اور محدود تعداد میں تیار ہونے والے جدید ہتھیاروں پر انحصار کرتا ہے، جبکہ چین نسبتاً سستے اور بڑی تعداد میں ہتھیار تیار کر رہا ہے، جس سے طویل جنگ میں امریکہ کی صنعتی اور عسکری صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔
خفیہ بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ چین کے میزائل تائیوان پہنچنے سے پہلے ہی امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، حتیٰ کہ جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئر بھی چینی حملوں کے سامنے غیر محفوظ قرار دیے گئے ہیں۔
رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان خود کو آزاد ریاست کہتا ہے۔ مغربی انٹیلیجنس کے مطابق چین 2027 کے آس پاس تائیوان پر قبضے کی کوشش کر سکتا ہے، اگرچہ بیجنگ نے کسی حتمی حملے کا اعلان نہیں کیا۔





