سڈنی میں یہودیوں کی ایک تقریب پر فائرنگ کے واقعے کے بعد پاکستان پر الزام عائد کرنے والا بھارت خود اس معاملے میں گھِر گیا، جب کہ ابتدائی تحقیقات اور دستیاب شواہد سے پاکستان سے تعلق ثابت نہ ہو سکا۔
آسٹریلیا کے ساحلی علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں 16 افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ واقعے میں ایک حملہ آور پولیس فائرنگ سے ہلاک ہو گیا، جبکہ دوسرا زخمی حالت میں گرفتار ہو کر اسپتال میں زیر علاج ہے۔
آسٹریلوی ٹی وی چینل سے گفتگو میں حملہ آور نوید اکرم کے دوست اور ہمسائے نے بتایا کہ ملزمان بھارتی نژاد ہیں، جبکہ نوید اکرم کی والدہ اٹلی کی شہری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی جانب سے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ گمراہ کن پروپیگنڈا حقائق کے سامنے آنے کے بعد خود ہی دم توڑ گیا۔ ساجد اکرم اور نوید اکرم کے پاکستان سے کسی بھی قسم کے تعلق کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
واقعے کے فوری بعد بھارتی اور اسرائیلی میڈیا کے ساتھ ساتھ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے حملے کو پاکستان سے منسلک کرنے کی کوشش کی۔ ایک اسرائیلی اخبار نے بھی حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دیا، جبکہ بھارتی خفیہ ایجنسی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا شروع کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ریکارڈ کے مطابق ساجد اکرم اور نوید اکرم نامی افراد کے پاکستانی شہری ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ آسٹریلیا میں موجود پاکستانی حکام اور کمیونٹی کی جانب سے بھی ان کے پاکستانی ہونے سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا کہ ساجد اکرم سیاحتی ویزے پر آسٹریلیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا پہنچا، جسے 2001 میں ایک آسٹریلوی خاتون سے شادی کے بعد پارٹنر ویزے میں تبدیل کر دیا گیا۔ آسٹریلوی وزیر داخلہ ٹونی بیورک کا بیان بھی ان حقائق کی توثیق کرتا ہے۔






