پشاور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے وکلاء کو سخت تنبیہ کی۔
جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ اگر وکلاء خود عدالتی فیصلے نہیں مانیں گے تو عام افراد سے عدالتی احکامات کیسے تسلیم کروائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا:
“ہم تو صرف رائے دیتے ہیں، اسے ماننا یا نہ ماننا وکلاء کی مرضی ہے، لیکن جب وکلاء ہمارے فیصلے کی پاسداری نہیں کریں گے تو دوسروں سے کیسے منوائیں گے؟”
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار پہلی بار پیش ہوئے ہیں اور عدالتی فیصلہ پہلے ہی موجود ہے۔






