وکلاء کے بغیر عدالتی فیصلے کیسے منوائے جائیں گے؟جسٹس ارشد علی

0
634

پشاور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے وکلاء کو سخت تنبیہ کی۔

جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ اگر وکلاء خود عدالتی فیصلے نہیں مانیں گے تو عام افراد سے عدالتی احکامات کیسے تسلیم کروائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا:
“ہم تو صرف رائے دیتے ہیں، اسے ماننا یا نہ ماننا وکلاء کی مرضی ہے، لیکن جب وکلاء ہمارے فیصلے کی پاسداری نہیں کریں گے تو دوسروں سے کیسے منوائیں گے؟”

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار پہلی بار پیش ہوئے ہیں اور عدالتی فیصلہ پہلے ہی موجود ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا