روس، ایران، کولمبیا اور کیوبا کی وینزویلا پر امریکی حملے کی شدید مذمت

0
65

روس، ایران، کولمبیا اور کیوبا نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین اور ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس وینزویلا کی قیادت کی جانب سے ملکی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کی پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا۔ روس نے امریکی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاطینی امریکا کو امن کا خطہ (زون آف پیس) رہنا چاہیے اور مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے فوری طور پر بات چیت کے ذریعے حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔

ایران نے بھی امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے وینزویلا کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف قرار دیا۔ ایرانی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر فوری کارروائی کرے اور حملے کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

خیال رہے کہ امریکا نے وینزویلا پر حملہ کر کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس کارروائی میں امریکی جنگی طیاروں نے حصہ لیا جبکہ ڈیلٹا فورس نے دارالحکومت کاراکاس میں اہم اہداف اور فوجی ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو وینزویلا سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب وینزویلا کی حکومت نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس کارروائی کا مقصد ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔

ادھر امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے بتایا کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف امریکا میں منشیات، دہشت گردی اور غیر قانونی اسلحہ کے حصول کے الزامات کے تحت مقدمات قائم ہیں۔ ان پر نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور انہیں امریکی عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔ اٹارنی جنرل کے مطابق اگست 2025 میں مادورو کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا