پاکستان نے یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کی جانب سے تنازع کے حل کے لیے سعودی عرب میں جامع مذاکرات کے انعقاد کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اس عمل کو پرامن ماحول میں آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور یمن میں امن کے لیے ان کے کردار اور کوششوں کی تعریف کی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ریاض میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے اور یمن کے تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ طے شدہ اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کریں۔
بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور خطے کی سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کو امید ہے کہ علاقائی سطح پر کی جانے والی یہ کوششیں یمن میں دیرپا امن اور استحکام کی بحالی میں مددگار ثابت ہوں گی۔
دریں اثنا، بیجنگ پہنچنے کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی، جن میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے یمن سے متعلق سعودی وزارت خارجہ کے مؤقف کو سراہا اور خطے میں مسائل کے پرامن حل کے لیے تمام فریقین کی کوششوں کی تعریف کی۔ اسی طرح انہوں نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے بھی رابطہ کیا، جس میں علاقائی حالات پر بات چیت کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے عملی اور مثبت حل سامنے آ رہے ہیں۔





