دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا اختیار رکھتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

0
423

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا اختیار ان کے پاس ہے اور انہیں روکنے والی واحد چیز ان کی اپنی اخلاقیات ہیں۔

نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین کے پابند نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں اور انہیں صرف ان کی ذاتی اخلاقیات اور فیصلہ سازی ہی محدود کرتی ہے۔

امریکی صدر کے مطابق طاقتور اقدامات اور فوجی کارروائیاں امریکا کے عالمی مفادات کے تحفظ میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے گرین لینڈ اور وینزویلا کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکی طاقت کے استعمال سے عالمی سطح پر اپنے ملک کے مفادات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض اوقات بین الاقوامی قوانین پر عمل ضروری محسوس ہوتا ہے، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان قوانین کی تشریح کس طرح کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اصل فیصلہ اخلاقیات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے معاملات میں ایک سال سے زائد عرصے تک امریکی کردار اور تیل پر کنٹرول رکھنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے روس کے ساتھ جوہری معاہدے سے متعلق کہا کہ اگر یہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیا جائے، تاہم اس میں چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔

تائیوان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ چین کے تائیوان سے متعلق اپنے خیالات ہیں اور چینی صدر شی جن پنگ تائیوان کو چین کا حصہ سمجھتے ہیں، تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ ان کے دورِ صدارت میں چین تائیوان کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین کا تائیوان کے حوالے سے کوئی بھی اقدام چینی صدر کا فیصلہ ہوگا، تاہم امریکا تائیوان کے خلاف کسی کارروائی پر خوش نہیں ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔

یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی آپریشنز اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث جاری ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ عالمی طاقت کے استعمال میں وہ خود کو آزاد سمجھتے ہیں اور صرف اپنی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا