کراچی میں سیاسی کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی اعلیٰ قیادت کو فراہم کی گئی سرکاری سیکیورٹی اچانک واپس لے لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کو حاصل سرکاری سیکیورٹی فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
اسی طرح انیس قائم خانی اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس بلانے کی ہدایات جاری کیں، جس کے بعد متعلقہ موبائل وینز اور پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی سے ہٹا لیے گئے۔
سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو کراچی کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے، جس پر مختلف ردِعمل سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔






