پاکستان ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا، ایران پر طاقت اور پابندیوں کے مخالف ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

0
532

وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور اس معاہدے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس اور اسٹیبلائزیشن فورس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، جبکہ پاکستان بورڈ آف پیس میں مشترکہ حکومتی اصولوں کے تحت شامل ہے۔

ایران سے متعلق کشیدہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مسائل کے پرامن حل کا حامی رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خطے میں امن بحال ہوگا اور کسی بھی قسم کی کشیدگی سے بچا جائے گا۔

بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں اور دوطرفہ تجارتی حجم 12 ارب یورو سے تجاوز کر چکا ہے۔ بھارت اور یورپ کے درمیان معاہدات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع، جاری منصوبوں کے جائزے اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے بڑے منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس ہفتے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ گھانا کے ساتھ وفود کی سطح پر دوطرفہ تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے حال ہی میں ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کی، جہاں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی گئیں۔ دورے کے بعد نائب وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کیا، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات کی پاکستان میں سرمایہ کاری پر بات چیت ہوئی۔

اسی ہفتے نائب وزیراعظم نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دو مرتبہ ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں ایران اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے جاری ٹریول ایڈوائزری سے متعلق ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں، جبکہ امریکا بعض پرانی ٹریول ایڈوائزریز واپس بھی لے چکا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ دونوں ممالک کے درمیان ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم مجوزہ مفاہمتی یادداشتوں کی تفصیلات آئندہ فراہم کی جائیں گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا