امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ شہرِ قائد میں آج مختلف مقامات پر کارکنوں کے کیمپس لگائے گئے ہیں اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، جو عوامی امیدوں اور بیداری کا اظہار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں گزشتہ 17 برس سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے، مگر اس طویل عرصے میں شہر کے لیے کوئی بڑا اور قابلِ ذکر منصوبہ سامنے نہیں آیا۔
نمائش چورنگی پر کارکنوں کے کیمپ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ 3360 ارب روپے کا بجٹ کراچی پر خرچ ہونے کے بجائے کرپشن اور نااہلی کی نذر ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں نلکوں سے پانی نہیں آتا جبکہ ٹینکر مافیا کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جو بدانتظامی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے گل پلازہ کے سانحے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فائر بریگیڈ کا عملہ تاخیر سے پہنچا، نہ مناسب پانی موجود تھا اور نہ ہی فائر فائٹنگ کا مؤثر سامان، جس کے باعث حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے گل پلازہ کے دکاندار آگ میں جھلس گئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے اور اسی شہر کی آمدن سے پورا ملک چلتا ہے، مگر بدقسمتی سے کراچی کے بجٹ کو بدعنوانی اور نااہلی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ ایم کیو ایم کی طرح دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی عوام کو گمراہ کرنے کے لیے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کو دیے جائیں۔ ان کے مطابق کراچی کے عوام اب گھروں سے نکل رہے ہیں اور گلی گلی میں قبضہ سسٹم کے خلاف آواز بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر شہریوں نے منظم مزاحمت اور جدوجہد نہ کی تو یہ حکمران اسی طرح عوام کی جانوں سے کھیلتے رہیں گے، اور عوام کے ہی ٹیکسوں کے پیسوں سے ان کی زندگیاں داؤ پر لگائی جاتی رہیں گی۔
امیر جماعت اسلامی نے کراچی کے تمام شہریوں سے، چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، اپیل کی کہ وہ مارچ میں ظالمانہ نظام کے خلاف بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے سانحہ گل پلازہ کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے فوری استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔





