افغانستان میں غذائی بحران سنگین، 40 لاکھ بچے خوراک اور علاج سے محروم

0
416

کابل: افغانستان میں جاری معاشی اور انسانی بحران کے باعث بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور لاکھوں بچے خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں تقریباً 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث ان میں سے بڑی تعداد تک امداد نہیں پہنچائی جا سکی۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب تقریباً 1 کروڑ 74 لاکھ افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کئی بیمار بچے علاج کے مراکز تک بھی نہیں پہنچ پا رہے، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق معاشی اور انتظامی بحران نے عوامی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی وسائل کی کمی اور بدانتظامی کے اثرات کی نشاندہی کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مزید انسانی المیہ جنم نہ لے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا