ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے میزائلوں کی حد دو ہزار کلومیٹر تک محدود ہے اور ملک طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار نہیں کر رہا۔
تہران میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے جان بوجھ کر اپنے میزائلوں کی رینج محدود رکھی ہے تاکہ کسی ملک کو خطرہ محسوس نہ ہو، جبکہ میزائلوں کی حد بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کے بھی کوئی شواہد یا انٹیلی جنس اطلاعات موجود نہیں کہ ایرانی میزائل امریکا تک پہنچ سکتے ہیں۔
سپریم لیڈر کے انتخاب سے متعلق سوال پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نیا سپریم لیڈر مجلس خبرگان منتخب کرے گی اور یہ ایران کا مکمل طور پر اندرونی معاملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر، کابینہ اور پارلیمنٹ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں جبکہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا فیصلہ صرف ایران کے عوام کا حق ہے۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ قیادت کے معاملے میں کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، طلبہ سمیت عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ اسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق میٹھے پانی کے پلانٹس اور آئل ریفائنریاں بھی حملوں کی زد میں آئیں اور مختلف مقامات پر شہری ہلاکتیں ہوئیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران میں آئل اسٹوریج ٹینکوں میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ فضائی حملوں کے بعد تہران کے آسمان پر گہرے دھوئیں کے بادل چھا گئے ہیں۔





