اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جاری علاقائی بحران کے حل کے لیے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ایسے مذاکرات کی میزبانی پاکستان کے لیے باعث فخر ہوگی اور خطے سمیت دنیا بھر میں امن و استحکام کے لیے مکالمہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جامع اور متفقہ حل کے لیے مذاکراتی عمل میں سہولت فراہم کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ تمام فریقین اس پر رضامند ہوں۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات کے انعقاد میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کو اعزاز سمجھتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
دریں اثنا، بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے اسلام آباد میں متوقع مذاکرات میں شرکت کر سکتی ہیں، تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف اسی صورت ثالثی کی میزبانی کرے گا جب تمام متعلقہ فریقین اس پر متفق ہوں۔






