چیئرمین پی ٹی آئی کو ’’را‘‘ اور موساد آج بھی سپورٹ کررہی ہیں ،مولانا فضل الرحمن

0
142

پشاور(طلوع نیوز)پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم ایک تحریک تھی اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی، جب محسوس ہوا کہ دفاعی نظام میں عدم استحکام آرہا ہے تو چیئرمین پی ٹی آئی سے ہاتھ اٹھا لیا گیا، دبئی میں ہونے والے میٹنگ میں پی ڈی ایم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔

پشاور میں سینئر صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سوال پی ڈی ایم میں موجود ہے کہ مسلم لیگ ن نے اب تک اتحاد میں شامل جماعتوں کو دبئی میں ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔ دبئی مذاکرات اچانک نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے ہوئے اس لیے سب کواعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔ پی پی ہمارے اتحاد کا حصہ نہیں اس لیے دبئی مذاکرات کے بارے میں نہیں پوچھ سکتے۔پی ڈی ایم ایک تحریک تھی اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عام انتخابات وقت پر ہوں گے، جلد مرکز، سندھ اوربلوچستان میں نگران حکومتیں قائم آ جائیں گی، ملک میں معیشت بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین پر تنقید کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ عمران خان امریکا کوگالی بھی دیتاہے اور اس سے یاری بھی گانٹھی جارہی ہے، عجیب بات ہے کہ وہ عالمی برادری جو قران پاک کی توہین کرتی ہے وہی چیئرمین پی ٹی آئی کی حمایت بھی کرتی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی سی پیک اورسرمایہ کاری روکتا ہے اسکے قول وفعل میں تضاد ہے، جب محسوس ہوا کہ دفاعی نظام میں عدم استحکام آرہا ہے تو چیئرمین پی ٹی آئی سے ہاتھ اٹھا لیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو را اور موساد کی سپورٹ حاصل تھی اور آج بھی حاصل ہے۔امید ہے کہ قوم عام انتخابات میں اس فتنے سے ملک کومحفوظ رکھے گی۔

امیر جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ہم 2018 اتخابات کے بعد اسمبلیوں کی رکنیت کاحلف نہیں اٹھاناچاہتے تھے تاہم اپوزیشن جماعتوں کی وجہ سے ایساکرنا پڑا۔ ہمارے لیے بے شمارمشکلات پیداکی گئیں مگر ہم نے تحمل سے کام لیا۔ ہم چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کونہیں ہٹاناچاہتے تھے تاہم اپوزیشن کا ساتھ دینے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ فوج ایک ادارہ ہے جس سے اختلاف ممکن نہیں البتہ شخصیات سے اختلاف ہوسکتا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا لیکن میں نہیں گیا، جب میں نہیں گیا تو وہ خود ملاقات کے لیے آگئے، فیض حمید نے ملاقات میں تین باتیں کیں کہ میں اپ کو سینٹ کا رکن اور پھر چیئرمین دیکھنا چاہتا ہوں اپ نے سسٹم کے اندر تبدیلی لانی ہے، میں نے انکار کر دیا اور اس کے بعد اپوزیشن کو تقسیم در تقسیم کر دیا گیا، برطانوی سفیر نے کہا گرفتاریوں پر تشویش ہے، میرا جواب تھا اگر اپ کی پارلیمنٹ پرحملہ ہوتا تو کیا کرتے، گرفتاریوں پر اپ کو تشویش اس وقت ہوتی جب ایک بیٹی کو باپ سے نہیں ملنے دیا جا رہا رہا تھا ۔

ان کا کہنا تھا کہ بغاوت کے زمرے میں جو بات آتی ہے تو اس پر ریاست ایکشن لے گی، ملک کو تباہی سے ہمکنار کرنے والوں سے نجات کے لیے سخت فیصلے کرنے ہونگے، عالمی برادری کی ترجیحات سمجھ نہیں آ رہی ہیں ،جو دنیا ہمارے دین کی توہین کرتی ہے اور وہی دنیا عمران کے حق میں بات کرتی ہے، عمران خان سی پیک اور سرمایہ کاری روکتا ہے اس کے قول و فعل میں تضاد ہے، ہم نے اس کے خلاف سنجیدہ جنگ لڑی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا