پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے مصنوعی طور پر ڈالر کی قیمت کو روک رکھا ہے، بصورت دیگر امریکی کرنسی کی قدر 500 روپے تک پہنچ سکتی تھی۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے بجٹ کی تیاری پر اپنی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب خیبرپختونخوا کو اس کا جائز این ایف سی حصہ فراہم نہیں کر رہیں، جس کے باعث صوبے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو 3 فیصد ہے جبکہ اسے کم از کم 5 فیصد ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجارتی خسارے اور برآمدات میں اضافے کے لیے حکومتی اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔
محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر کنٹرول کر رکھا ہے، ورنہ معاشی حقائق کے مطابق اس کی قدر 500 روپے تک جا سکتی تھی۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے سیکیورٹی گارڈ عارف خٹک کو ایوان میں بلایا، جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ عارف خٹک کی جانب سے عمران خان کے حق میں نعرے لگائے گئے، جبکہ اپوزیشن ارکان نے جواباً نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کی، جس سے ایوان میں ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے غیر متعلقہ شخص کو ایوان میں لانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا احترام کیا جانا چاہیے۔






