ایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے لیے قومی ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان

0
377

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر قومی ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ صوبے قانونی اور انتظامی تقاضوں کے تحت نہیں بنائے گئے، بلکہ زیادہ تر لسانی بنیادوں پر تشکیل دیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا لیکن نئے صوبے نہیں بنائے گئے، جبکہ آبادی میں اضافے کے ساتھ اضلاع کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ ان کے مطابق صوبوں کی عدم تشکیل کے اثرات پر بھی سنجیدگی سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم صرف اپنے لیے صوبے کا مطالبہ نہیں کررہی بلکہ جہاں بھی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے، وہاں یہ بننے چاہئیں۔ انہوں نے ملک بھر کی سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس معاملے پر قومی ڈائیلاگ شروع کرنے کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت جہاں جہاں صوبے کی آواز بلند ہورہی ہے، ایم کیو ایم ان آوازوں کے ساتھ ہے اور آبادی کے تناسب سے نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر صوبے بنانا غداری ہے تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے؟ عوام کے جائز حقوق عوام تک پہنچانا غداری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے اور اس معاملے کو آئینی و قانونی فورمز پر بھی اٹھایا جائے گا۔

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کی حمایت

وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام سندھ کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان کے حق میں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برسوں میں سندھ کو 22 ہزار ارب روپے ملے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے مختلف علاقوں کی حالت خراب ہے۔ ان کے مطابق انتظامی یونٹس بننے سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے اور عوام کو اپنے حکمرانوں کے احتساب کا زیادہ مؤثر موقع ملے گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد سندھ کی آبادی کا بڑا حصہ ہیں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے سندھ کے دیگر علاقوں کے عوام کو بھی بہتر نمائندگی اور اختیار مل سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت کی بات اب دیگر حلقوں سے بھی سامنے آرہی ہے۔ ان کے مطابق اگر انتظامی یونٹس قائم ہوں تو صوبے کا ایک عام کسان بھی اپنے وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے کے سیاسی عمل میں مؤثر کردار ادا کرسکے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا