عمران خان شفاءانٹرنیشنل اسپتال منتقل، سکیورٹی کے حصار میں سابق وزیراعظم کا علاج شروع

0
845

اسلام آباد/راولپنڈی (طلوع رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو جمعہ کی شب اڈیالہ جیل سے سخت سکیورٹی حصار میں اسلام آباد کے شفاءانٹرنیشنل اسپتال منتقل کردیا گیا۔ گراؤنڈ اطلاعات کے مطابق عمران خان کی منتقلی کے موقع پر اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس سمیت ریسکیو 1122 اور ایمبولینسز پر مشتمل خصوصی اسکواڈ ان کے ہمراہ تھا۔

عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی منتقلی کے عمل میں موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے E4 وارڈ کو اڈیالہ جیل پولیس نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، جبکہ وارڈ اور اس تک پہنچنے والے راستوں پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم کی اسپتال منتقلی کے دوران سکیورٹی خدشات کے پیش نظر میڈیا کی نقل و حرکت محدود کردی گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندے بھی شفاء انٹرنیشنل اسپتال پہنچے، تاہم انہیں بھی پولیس کی جانب سے اسپتال سے تقریباً ایک کلومیٹر آگے جانے کی ہدایت کی گئی۔ پطرس بخاری روڈ سے بھی میڈیا کو ہٹا دیا گیا جبکہ عمران خان کی منتقلی سے قبل اسپتال اور ملحقہ علاقوں کو سکیورٹی حکام کی جانب سے کلیئر کیا گیا۔

عمران خان کو میڈیا کے کیمروں کی زد سے بچانے کے لیے ان کی گاڑی کو اسپتال کے نسبتاً غیر مصروف گیٹ سے اندر داخل کیا گیا، جبکہ اسکواڈ میں شامل دیگر گاڑیاں مقررہ سکیورٹی روٹ سے اسپتال پہنچیں۔

سکیورٹی انتظامات کے تحت عمران خان کے لیے مختص وارڈ میں داخل ہونے والے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر متعلقہ عملے کو اپنے موبائل فون باہر جمع کروانے کیہدایت کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وارڈ کی جانب جانے والے مختلف راستوں پر اضافی سکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ سابق وزیراعظم کی اسپتال میں موجودگی کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے اور ان کی تصاویر یا ویڈیو غیر مجاز طور پر منظر عام پر نہ آسکیں۔

عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے قبل

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے شفا انٹرنیشنل اسپتال پہنچے۔ سکیورٹی حکام نے وزیر داخلہ کو اسپتال اور اطراف میں کیے گئے انتظامات پر بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق اسپتال کے داخلی و خارجی راستوں، اطراف کی سڑکوں اور عمران خان کے زیر علاج وارڈ کے گرد اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

عمران خان کی منتقلی کے لیے تیار کیے گئے اسکواڈ میں اسلام آباد پولیس، ایمبولینس اور ریسکیو 1122 کی گاڑیاں شامل تھیں۔ سابق وزیراعظم کو اڈیالہ جیل سے انتہائی سخت سکیورٹی میں روانہ کیا گیا۔دوسری جانب راولپنڈی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے عمران خان کی اسپتال منتقلی کی اطلاع پر پاکستان تحریک انصاف کارکنان کی جانب سے آتش بازی بھی کی گئی۔

عمران خان کی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقلی سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم کے بعد عمل میں آئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں سخت سکیورٹی میں رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کی تھی جسکا مطلب یہ ہے کہ عمران خان کم از کم 16 ستمبر 2026 تک اسپتال میں زیر علاج رہیں گے۔
حکومت نے اس فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم 20 اگست کو حکومت نے درخواست واپس لے لی، جسکے بعد حکومت کی جانب سے درخواست دوبارہ دائر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ رواں سال ان کی آنکھ کے علاج اور طبی سہولیات تک رسائی کا معاملہ عدالتوں میں زیر بحث رہا، جبکہ ان کے خاندان اور ذاتی معالجین کی جانب سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں جامع طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

خبر فائل کرنے کے وقت شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت رہی جبکہ میڈیا اور غیر متعلقہ افراد کی نقل و حرکت محدود رکھی گئی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا