ملک سندر شعیب ایڈووکیٹ
پاکستان کی سیاست ایک مرتبہ پھر ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں سیاسی اختلافات، مذاکرات اور پارلیمانی سرگرمیوں کے بجائے سخت بیانات، احتجاجی اعلانات، جوابی اقدامات اور ایک دوسرے کو نتائج بھگتنے کی دھمکیوں نے سیاسی ماحول کو کشیدہ بنا دیا ہے۔ حکومت اور مخالف سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری لفظی جنگ محض بیانات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات سڑکوں، پارلیمان، عدالتوں اور انتظامی معاملات تک بھی پہنچتے ہیں۔ اس صورت حال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو آئینی اور جمہوری دائرے میں رکھتے ہوئے کس طرح اس کشیدگی کو کم کیا جائے۔جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن کا اختلاف کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ حکومت کا کام پالیسی بنانا اور ریاستی امور چلانا ہے جبکہ اپوزیشن کا بنیادی کردار حکومتی اقدامات پر تنقید، متبادل تجاویز اور عوامی مسائل کی نشاندہی کرنا ہے۔ لیکن جب سیاسی اختلاف ذاتی تصادم اور باہمی دھمکیوں میں تبدیل ہونے لگے تو جمہوری اداروں کا اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
موجودہ سیاسی ماحول میں حکومت کی جانب سے مخالف جماعتوں کو احتجاج، دھرنوں یا ریاستی اداروں کے بارے میں سخت رویے پر قانونی کارروائی کی تنبیہ کی جاتی ہے، جبکہ اپوزیشن کی طرف سے بھی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج، مزاحمت اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے اعلانات سامنے آتے ہیں۔ دونوں جانب اپنے اپنے مؤقف کے حق میں آئین، قانون اور عوامی مینڈیٹ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی فریق ایک دوسرے کی بات سننے اور اختلاف کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے طاقت کے اظہار کو سیاسی حکمت عملی سمجھنے لگیں تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔حکومت کے لیے قانون کی عمل داری برقرار رکھنا یقیناً بنیادی ذمہ داری ہے۔ ریاست کسی بھی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ احتجاج ہر شہری اور سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے، لیکن یہ حق قانون کے دائرے میں استعمال ہونا چاہیے۔ اسی طرح حکومت کو بھی احتجاج اور اختلافِ رائے کو محض انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے سیاسی حقیقت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
پرامن سیاسی احتجاج کو جگہ دینا اور تشدد، توڑ پھوڑ یا سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کرنا، دونوں پہلو ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ سیاسی مزاحمت اور ریاستی نظام کو مفلوج کرنے کے درمیان فرق واضح رکھیں۔ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاج جمہوری طریقہ ہو سکتا ہے، لیکن ایسا احتجاج جو عام شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی کو طویل عرصے تک متاثر کرے، اس کے نتیجے میں خود اپوزیشن کی سیاسی مہم کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح ریاستی اداروں یا سرکاری اہلکاروں کے خلاف اشتعال انگیز زبان سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ محاذ آرائی کا نتیجہ اکثر کسی ایک فریق کی مستقل فتح کی صورت میں نہیں نکلتا۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں، اپوزیشن جماعتیں اقتدار میں آتی رہی ہیں اور جو سیاسی قوت آج طاقت کے مرکز میں ہے، کل اسے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی فریقوں کو ایسے طرزِ عمل سے گریز کرنا چاہیے جو مستقبل میں انہی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہو۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کا ایک بڑا سبب اعتماد کا فقدان بھی ہے۔ جب ایک فریق دوسرے کے ہر اقدام کو بدنیتی پر مبنی سمجھنے لگے تو مذاکرات کا راستہ محدود ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں معمولی واقعہ بھی بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس لیے سیاسی قیادت کو کم از کم چند بنیادی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے، خصوصاً احتجاج کے طریقہ کار، پارلیمانی کارروائی، انتخابی معاملات، سیاسی کارکنوں کے حقوق اور ریاستی اداروں کے احترام کے حوالے سے۔میڈیا کا کردار بھی اس صورتحال میں انتہائی اہم ہے۔ سیاسی بیانات کی صرف سنسنی خیز سرخیاں بنا کر پیش کرنے کے بجائے ان کے پس منظر، قانونی حیثیت اور ممکنہ اثرات کو عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اگر ایک سیاسی رہنما حکومت کو دھمکی دیتا ہے یا حکومت کسی جماعت کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتی ہے تو عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ آئین اور قانون اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔ محض سخت الفاظ کو سیاسی خبر کا مرکزی موضوع بنا دینے سے معاشرے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کو یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ملک پہلے ہی معاشی، انتظامی اور سکیورٹی کے متعدد مسائل سے دوچار ہے۔ سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمی، روزگار اور عوامی اعتماد کے لیے سیاسی استحکام بنیادی ضرورت ہے۔ مسلسل سیاسی تصادم کا براہ راست اثر معیشت اور عام شہری کی زندگی پر پڑتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے سخت زبان استعمال کر سکتی ہیں، لیکن ریاستی اور معاشی استحکام کی قیمت پر مستقل محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں۔اس صورتحال کا قابلِ عمل راستہ مذاکرات ہی سے نکل سکتا ہے۔ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت یا اپوزیشن اپنے بنیادی سیاسی مؤقف سے دستبردار ہو جائے۔ مذاکرات کا مطلب اختلاف کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا ہے۔ حکومت اگر اپوزیشن کے مطالبات میں سے جائز اور آئینی نکات پر بات کرے اور اپوزیشن بھی حکومت کے قانونی اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے احتجاج کے لیے آئینی حدود کا احترام کرے تو کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اسی طرح سیاسی مقدمات اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے معاملات کو بھی شفاف قانونی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھانا ضروری ہے۔ اگر کسی فرد پر الزام ہے تو عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور اگر کوئی مقدمہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیے جانے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے بھی قانونی فورم پر چیلنج کرنے کا راستہ موجود رہنا چاہیے۔ ریاستی اختیار اور عدالتی عمل دونوں کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب قانون کا اطلاق سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو۔آج پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، احتجاج ہو مگر تشدد نہ ہو، حکومت کی رٹ ہو مگر سیاسی مخالفین کے لیے آئینی گنجائش بھی موجود ہو، اور اپوزیشن کی مزاحمت ہو مگر ریاستی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دھمکیوں کا تبادلہ وقتی طور پر اپنے کارکنوں کو متحرک کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں سیاسی اداروں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
حکومت اور مخالف سیاسی جماعتوں کے درمیان موجودہ کشیدگی کا حل طاقت کے مزید مظاہرے میں نہیں بلکہ سیاسی تدبر میں ہے۔ حکومت کو اپنے اختیارات کے استعمال میں قانون اور تناسب کو پیش نظر رکھنا ہوگا جبکہ اپوزیشن کو بھی احتجاج اور مزاحمت کے حق کو آئینی حدود میں رکھنا ہوگا۔ دونوں طرف سے اگر ایک دوسرے کو زیر کرنے کے بجائے سیاسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو ملک کو مسلسل تصادم کے بجائے استحکام کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اختلافِ رائے برداشت کرنے، مخالف آواز سننے، قانون کی پابندی اور اقتدار کی تبدیلی کے امکانات کو قبول کرنے کا نظام ہے۔ حکومتیں مستقل نہیں ہوتیں اور اپوزیشن بھی ہمیشہ اپوزیشن میں نہیں رہتی۔ اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اگر سیاسی قیادت دھمکیوں کے بجائے مکالمے کو ترجیح دے تو موجودہ کشیدگی کو سیاسی بحران بننے سے روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی مستقبل کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ اختلاف کو تصادم بننے سے پہلے مذاکرات کی میز تک کیسے لایا جائے۔





