آسمان بُھٹہ
آبنائے ہرمز مشرقِ وسطیٰ کے اُن سمندری راستوں میں سے ہے جن کی اہمیت ان کے رقبے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک تنگ بحری گزرگاہ ہے جو خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔ صدیوں سے یہاں سے تجارت، فوجی نقل و حرکت اور سلطنتوں کا اثر و رسوخ گزرتا رہا ہے۔ آج بھی دنیا کی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اسی لیے یہاں کا کوئی سیاسی یا عسکری بحران عالمی منڈیوں اور سفارت کاری پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔آبنائے ہرمز کی اہمیت جدید تیل کی تجارت سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔ خلیجِ فارس اور بحرِ ہند کے درمیان واقع ہونے کے باعث یہ مشرقی افریقہ، عرب خطے، ایران، برصغیر اور جنوب مشرقی ایشیا کے تاجروں کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ تھی۔ اس راستے سے موتی، گھوڑے، مصالحے، کپڑا اور دیگر اشیا کی تجارت ہوتی تھی۔ اس کے کنارے آباد بندرگاہیں سمندری تجارت کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور سیاسی تبادلوں کے مراکز بھی بنیں۔قرونِ وسطیٰ میں آبنائے کے نزدیک جزیرہ ہرمز ایک خوش حال تجارتی مرکز تھا۔
اس کی حیثیت ایسی تھی کہ اس کے نام نے پورے علاقے کی شناخت پر اثر ڈالا۔ یہاں سے گزرنے والے جہازوں اور بندرگاہوں پر قابو پانا مقامی حکمرانوں اور بیرونی طاقتوں دونوں کے لیے فائدے کا باعث تھا۔ آبنائے پر اثر و رسوخ کا مطلب صرف تجارت پر اختیار نہیں بلکہ خلیجِ فارس کے دروازے پر سیاسی گرفت بھی تھا۔پرتگالی اور برطانوی اثرپندرھویں اور سولھویں صدی میں یورپی بحری طاقتوں نے بحرِ ہند کی تجارت پر اثر بڑھانے کی کوشش کی۔ پرتگالیوں نے 1507ء میں جزیرہ ہرمز پر قبضہ کیا اور اسے اپنے بحری نظام کا اہم مرکز بنایا۔ ان کا مقصد ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کو کنٹرول کرنا اور حریفوں کی آمدورفت محدود کرنا تھا۔ 1622ء میں صفوی ایران نے انگریزوں کی مدد سے پرتگالیوں کو جزیرے سے نکال دیا۔ اس واقعے نے خطے میں ایرانی اقتدار اور یورپی طاقتوں کے بدلتے تعلقات کو نمایاں کیا۔بعد کی صدیوں میں برطانیہ نے خلیجِ فارس میں اپنا اثر بڑھایا۔ اس کی بحری موجودگی نے تجارت اور مقامی ریاستوں کے تعلقات پر گہرا اثر ڈالا۔ برطانوی حکمتِ عملی کا ایک مقصد اپنے ہندوستانی راستوں اور خلیجی تجارت کی حفاظت تھا۔ تاہم برطانوی انخلا کے قریب آتے ہی یہ سوال اٹھا کہ آبنائے کے قریب واقع جزائر اور ساحلی علاقوں پر اختیار کس کا ہوگا۔
یہی پس منظر بعد میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جاری جزائر کے تنازعے سے جڑ گیا۔آبنائے ہرمز کے دہانے کے قریب واقع ابو موسیٰ، بڑا تُنب اور چھوٹا تُنب اس خطے کے سب سے نمایاں علاقائی تنازعات میں شامل ہیں۔ برطانوی افواج کے خلیج سے انخلا اور متحدہ عرب امارات کے قیام سے ایک روز قبل، 30 نومبر 1971ء کو ایرانی فوجی دستے ان جزائر پر پہنچے۔ ابو موسیٰ کے معاملے میں ایران اور شارقہ کے درمیان ایک انتظامی سمجھوتا موجود تھا، جس کے تحت جزیرے پر ایرانی موجودگی کے ساتھ شارقہ کی شہری انتظامیہ کے لیے بھی جگہ رکھی گئی۔ تُنب کے جزائر پر ایران کے اقدام پر راس الخیمہ نے اعتراض کیا۔متحدہ عرب امارات، جو اسی وقت وجود میں آ رہا تھا، ان تینوں جزائر پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے؛ ایران انہیں اپنا علاقہ قرار دیتا اور وہاں انتظامی و عسکری کنٹرول برقرار رکھتا ہے۔
دونوں جانب سے تاریخی دستاویزات اور سابقہ انتظامی تعلقات کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ اس اختلاف نے ایران اور امارات کے تعلقات میں مستقل سفارتی تناؤ پیدا کیا ہے۔ جزائر آبنائے کے قریب واقع ہونے کے باعث ان کی اہمیت علامتی یا قانونی دعووں تک محدود نہیں؛ ان کا محلِ وقوع گزرگاہ کی نگرانی اور علاقائی سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔امریکی دفترِ تاریخ کی دستاویز، رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کا مطالعہ ایران عراق جنگ اور ٹینکر وار1980ء سے 1988ء تک جاری ایران عراق جنگ میں آبنائے اور خلیجِ فارس کے بحری راستے جنگی دباؤ کا مرکز بنے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی تیل کی تنصیبات اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس سلسلے کو عموماً “ٹینکر وار” کہا جاتا ہے۔
عراق نے ایرانی بندرگاہوں اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، جبکہ ایران نے جواب میں خطے میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالا۔ اس دوران متعدد تجارتی جہاز حملوں کا نشانہ بنے اور سمندری آمدورفت کے تحفظ پر عالمی تشویش بڑھی۔1987ء میں کویت نے اپنے آئل ٹینکروں کو امریکی پرچم کے تحت رجسٹر کرایا، تاکہ امریکی بحریہ انہیں خلیج میں تحفظ فراہم کرے۔ یہ اقدام اس بات کی مثال تھا کہ مقامی جنگ کس طرح بڑی طاقتوں کو آبنائے کے قریب کھینچ سکتی ہے۔ 1988ء میں امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس ونسینز نے آبنائے کے قریب ایرانی مسافر طیارہ مار گرایا؛ اس سانحے میں 290 افراد ہلاک ہوئے۔ ایران عراق جنگ کے آخری مہینوں کا یہ واقعہ خطے میں فوجی تناؤ اور غلط اندازوں کے تباہ کن نتائج کی یاد دہانی ہے۔اکیسویں صدی میں آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت بنیادی طور پر توانائی کی ترسیل سے وابستہ ہے۔
امریکی ادارۂ اطلاعاتِ توانائی کے مطابق 2024ء میں اوسطاً روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اس راستے سے گزرا، جو عالمی پٹرولیم مائعات کے استعمال کا لگ بھگ پانچواں حصہ تھا۔ اس لیے آبنائے کی بندش یا جہازوں کے لیے خطرہ تیل کی قیمتوں، بیمہ، مال برداری اور عالمی معیشت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس کچھ متبادل پائپ لائنیں ہیں، مگر وہ آبنائے سے گزرنے والی پوری مقدار کو منتقل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کے دوران آبنائے کو دباؤ کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ پابندیوں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹوں، بحری جہازوں کی ضبطی یا حملوں اور فوجی مشقوں نے کئی مرتبہ جہاز رانی کے تحفظ پر سوال اٹھائے۔ تاہم آبنائے بند کرنے کی دھمکی اور حقیقی بندش ایک جیسی باتیں نہیں: ایران خود بھی اپنی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس راستے پر انحصار کرتا ہے۔ مکمل بندش سے اسے بھی بھاری معاشی اور سفارتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی آبناؤں میں “ٹرانزٹ پیسیج” کا اصول موجود ہے۔ اس کے تحت جہازوں اور طیاروں کو مسلسل اور تیز رفتار گزرنے کا حق حاصل ہے، اور ساحلی ممالک کو اس گزرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ اس کے ساتھ جہازوں پر بھی لازم ہے کہ وہ محفوظ جہاز رانی کے اصولوں پر عمل کریں اور ساحلی ریاستوں کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں۔اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کا کنونشن قانونی اصول تنازعات کو ختم نہیں کرتا، مگر یہ واضح کرتا ہے کہ آبنائے کی سلامتی صرف ایران یا عمان کا مسئلہ نہیں۔ اس راستے سے گزرنے والے ممالک، توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں اور عالمی تجارت کے مفادات بھی وابستہ ہیں۔
اس لیے کسی بحران کا پائیدار حل فوجی دھمکیوں کے بجائے سفارت کاری، واضح مواصلاتی ضابطوں اور بین الاقوامی قانون کے احترام سے ہی نکل سکتا ہے۔آبنائے ہرمز کی تاریخ تجارت، سلطنتی رقابت، نوآبادیاتی اثر و رسوخ اور جدید توانائی کی سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ پرتگالی قبضے سے لے کر برطانوی موجودگی، 1971ء کے جزائر کے تنازعے اور ایران عراق جنگ کی ٹینکر وار تک، ہر دور میں اس تنگ گزرگاہ نے بڑی طاقتوں اور ہمسایہ ممالک کے مفادات کو آمنے سامنے رکھا۔ آج اس کی سب سے بڑی اہمیت عالمی تیل اور گیس کی ترسیل میں ہے، مگر اس کے گرد جاری علاقائی اختلافات بھی کم نہیں ہوئے۔ آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ساحلی ممالک اپنے اختلافات مذاکرات سے حل کریں، جہاز رانی کے بین الاقوامی اصولوں کا احترام کریں اور اس خطے کو کسی بڑے تصادم کا میدان بننے سے روکیں۔




