وفاقی وزیرکے پنجاب کی چیف ایگزیکٹو پر الزامات، مریم نواز کا جواب

0
3

مسعود چوہدری

سیاست میں کبھی ایک ٹی وی انٹرویو حکومتی کارکردگی پر بحث چھیڑ دیتا ہے، اور کبھی اسی بحث کا جواب قانونی نوٹس کی صورت میں آتا ہے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے درمیان حالیہ تنازع بھی اسی موڑ پر پہنچا ہے۔ سالک نے پنجاب میں بدعنوانی کی شکایات، ترقیاتی بجٹ کے لاہور پر ارتکاز اور سرکاری وسائل کے استعمال پر سوال اٹھائے۔ اور کہاکہ پنجاب میں بدعنوانی کی شکایات اور “کہانیاں” گردش کر رہی ہیں، اور ان میں صداقت ہے۔میرے پاس شواہد تو نہیں مگر پنجاب میں کرپشن کی کہانیاں روز سنتا ہوں۔ وہاں کرپشن کی فائلیں نہیں بلکہ الماریاں بھر گئی ہوں گی صوبائی ترقیاتی بجٹ کا غیر متناسب حصہ لاہور میں خرچ ہو رہا ہے۔ترقیاتی ترجیحات پر سیاسی اثراندازی ہو رہی ہے۔سرکاری طیاروں کے دوروں کے عوامی فائدے اور نتائج سامنے آنے چاہییں مریم نواز نے جواب میں ہرجانے کا نوٹس بھیجنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائیں۔ سالک اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ یوں سیاسی اختلاف اب ایک بنیادی سوال پر آ رکا ہے: کیا یہ محض الزام تراشی ہے یا عوامی عہدے داروں سے جواب طلب کرنے کا حق؟اس سوال کا جواب نعروں سے نہیں، شواہد اور شفاف طریقۂ کار سے نکلے گا۔

کسی وزیر کا یہ کہنا کہ اسے بدعنوانی کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، بذاتِ خود کسی مخصوص جرم کا ثبوت نہیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ الزام بے بنیاد ہے، اس کی تردید تو ہے مگر پورے معاملے کا عدالتی فیصلہ نہیں۔ خبر رساں ادارے ڈان کے مطابق سالک نے ترقیاتی ترجیحات، لاہور پر خرچ کے ارتکاز اور پنجاب میں مبینہ بدعنوانی پر بات کی؛ مریم نواز نے ان کے بیان پر نوٹس بھیجنے کا اعلان کیا، جبکہ سالک نے اپنا مؤقف برقرار رکھا۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اختلاف کی ایک وجہ گجرات میں ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی پر ان کی مداخلت نہ ماننا تھی؛ یہ الزام بھی متعلقہ فریقوں کے دعوے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نہیں۔ اس تنازع کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لیے چوہدری خاندان کے اندر بدلتی صف بندی دیکھنا ضروری ہے۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی طویل عرصے تک مسلم لیگ ق کے مرکزی چہرے رہے، لیکن ۲۰۲۲ء کے بعد خاندان اور جماعت کے سیاسی راستے ایک جیسے نہیں رہے۔

شجاعت حسین کا دھڑا مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت کے قریب رہا، جبکہ پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے مونس الٰہی تحریکِ انصاف کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ سالک شجاعت حسین کے صاحبزادے اور وفاقی وزیر ہیں؛ ان کے بھائی شافع حسین پنجاب کابینہ میں شامل ہیں۔ یہ خاندانی و جماعتی تقسیم گجرات اور پنجاب کی سیاست کو خاص وزن دیتی ہے۔ اس لیے سالک کا پرویز الٰہی کی وزارتِ اعلیٰ کی تعریف کرنا صرف ماضی کی کارکردگی پر رائے نہیں سمجھا جائے گا؛ اسے موجودہ سیاسی صف بندی اور مسلم لیگ ق کے مختلف دھڑوں کے تناظر میں بھی پڑھا جائے گا۔مریم نواز نے سابق وزیراعلیٰ کے دعوائے کارکردگی کا جواب گجرات میں بارش کے پانی اور شہری نکاسی کے مسئلے کی مثال دے کر دیا۔ اس جواب نے بحث کو ایک مفید سمت بھی دی: ترقیاتی کارکردگی کا موازنہ سیاسی القاب سے نہیں، منصوبوں، بجٹ، تکمیل اور شہری نتائج سے ہونا چاہیے۔ اگر کوئی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ نکاسی بہتر ہوئی ہے تو بارش کے بعد پانی کھڑا ہونے کے ریکارڈ، منصوبوں کی لاگت اور تکمیل کی تفصیل عوام کے سامنے رکھی جا سکتی ہے۔ اگر کسی سیاست دان کا کہنا ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ لاہور میں لگ رہا ہے تو ضلع وار مختص اور خرچ شدہ رقم کے اعدادوشمار پیش کیے جا سکتے ہیں۔

ایسے سوالوں کا بہترین جواب الزام یا طنز نہیں بلکہ قابلِ جانچ معلومات ہیں۔یہاں وفاقی اور صوبائی سیاست کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ وفاقی وزیر کا منصب انہیں حکومتی پالیسی پر رائے دینے سے نہیں روکتا، مگر سرکاری عہدہ بیان کو زیادہ ذمہ دار بناتا ہے: اگر دعویٰ کسی خاص محکمے، منصوبے یا افسر کے بارے میں ہے تو اس کی بنیاد واضح ہونی چاہیے۔ دوسری طرف صوبائی وزیراعلیٰ کا عہدہ بھی انہیں تنقید سے بالاتر نہیں کرتا۔ عوامی خرچ، افسران کی تعیناتی اور ترقیاتی ترجیحات حکومت کے جائز احتسابی موضوعات ہیں۔ اگر کسی وفاقی وزیر کا الزام محض سیاسی تاثر پر قائم ہو تو اسے ثبوت کے بغیر حقیقت بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے؛ اگر حکومت ہر سخت سوال کو ذاتی توہین قرار دے تو جواب دہی کا دائرہ تنگ ہو جاتا ہے۔قانونی طور پر مریم نواز کا ہرجانے کے نوٹس کا اعلان، بذاتِ خود مقدمہ دائر ہونے یا سالک کے قصوروار قرار پانے کے برابر نہیں۔ ہتکِ عزت کے دعوے میں عموماً یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کون سا بیان دیا گیا، آیا وہ حقیقت کا دعویٰ تھا یا رائے، کس شخص یا ادارے کی شہرت متاثر ہوئی، اور بیان کی بنیاد یا دفاع کیا ہے۔

پنجاب کے ہتکِ عزت قانون میں سچائی، عوامی مفاد میں منصفانہ تبصرے اور رائے جیسے دفاعوں کا ذکر موجود ہے؛ تاہم مخصوص مقدمے کا نتیجہ شواہد اور عدالت کے فیصلے پر منحصر ہوگا۔ اس قانون کی آئینی حیثیت بھی زیرِ بحث رہی ہے: لاہور ہائی کورٹ میں اس کے خلاف درخواستیں دائر ہوئیں، اور دستیاب اطلاعات کے مطابق ۲۰۲۶ء میں ان پر کارروائی جاری تھی۔ اس لیے قانون کے ہر حصے کی موجودہ عدالتی حیثیت کو قطعی قرار دینے کے بجائے متعلقہ مقدمات کے تازہ عدالتی احکامات دیکھنا ضروری ہے۔ قانون کے ساتھ آئینی توازن بھی اہم ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل ۱۹ اظہارِ رائے اور صحافت کی آزادی دیتا ہے، مگر اسے معقول قانونی پابندیوں کے تابع رکھتا ہے۔ آرٹیکل ۱۰-اے منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا حق دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے والے ہر بیان کو آزادیِ اظہار کہہ کر درست مان لیا جائے؛ نہ یہ کہ ہتکِ عزت کا دعویٰ تنقید کو خاموش کرنے کا خودکار ذریعہ بن جائے۔ عدالت کو بیان، سیاق، نیت، شواہد اور عوامی مفاد کو دیکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے دونوں رہنماؤں کے لیے باوقار راستہ واضح ہے۔ سالک اگر بدعنوانی کی بات کر رہے ہیں

تو انہیں عمومی فقرے دہرانے کے بجائے متعلقہ دستاویزات، آڈٹ اعتراضات یا قابلِ تصدیق مثالیں پیش کرنی چاہئیں، اور الزام کو کسی مخصوص فرد یا منصوبے سے جوڑتے وقت ذمہ داری سے کام لینا چاہیے۔ وزیراعلیٰ کو بھی نوٹس کے اعلان کے ساتھ ساتھ بجٹ کے ضلع وار اعداد، ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل اور گجرات سمیت مختلف شہروں میں کارکردگی کا ریکارڈ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔ اگر نوٹس بھیجا جاتا ہے تو جواب اور ممکنہ مقدمے کا فیصلہ قانونی فورم پر ہونے دیا جائے، جبکہ سیاسی گفتگو میں ذاتی طعنوں اور دھمکیوں سے گریز ہو۔یہ بیاناتی جنگ فی الحال دو سیاست دانوں کے درمیان دکھائی دیتی ہے، مگر اصل سوال عام شہریوں کا ہے: ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہوا، کس منصوبے سے کیا فائدہ ہوا، اور بدعنوانی کے دعوے کی جانچ کون کرے گا؟ اگر اس تنازع کے نتیجے میں اعدادوشمار سامنے آئیں اور الزام و جواب ثبوت کے معیار پر پرکھے جائیں تو یہ جمہوری احتساب کے حق میں ہوگا۔ اگر یہ محض تلخ جملوں، نوٹسوں اور جوابی طعنوں تک محدود رہا تو عوامی مفاد پھر سیاسی شور میں دب جائے گا۔ یہی اس معاملے کی تاریخی اور سیاسی اہمیت ہے، اور یہی اس کا قانونی امتحان بھی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا