امریکہ میں ڈیموکریٹس کی جیت کے عالمی سیاست پر اثرات

0
718
سندر شعیب ایڈووکیٹ

ملک سندر شعیب بُھٹہ ایڈووکیٹ

امریکہ کے 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ کامیابی صرف کانگریس کی نشستوں کی تبدیلی نہیں؛ اس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آخری دو برسوں کے لیے واشنگٹن میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ عالمی سیاست کے لیے اس کے اثرات فوری اور ہمہ گیر نہیں ہوں گے، کیونکہ خارجہ پالیسی پر صدر کے پاس اب بھی وسیع اختیارات ہیں۔ لیکن اب ان اختیارات کے استعمال پر نگرانی، بجٹ کی منظوری اور اہم تقرریوں کے حوالے سے ایک زیادہ سرگرم کانگریس موجود ہوگی۔ یوں دنیا کو امریکی پالیسی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ مزید سیاسی کشمکش کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔کانگریس کے ہاتھ میں اثرانداز ہونے کے کئی راستے ہیں امریکی صدر خارجہ پالیسی، دفاعی فیصلوں اور ٹیرف کے معاملے میں اہم اختیارات رکھتے ہیں، اس لیے ڈیموکریٹس کی جیت کو وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں کی فوری منسوخی نہیں سمجھنا چاہیے۔ لیکن کانگریس بھی خارجہ پالیسی سے باہر نہیں۔ وفاقی بجٹ اور دفاعی اخراجات کی منظوری دونوں ایوانوں سے گزرتی ہے؛ کانگریسی کمیٹیاں سماعتیں بلا سکتی ہیں، دستاویزات طلب کر سکتی ہیں اور حکام سے جواب مانگ سکتی ہیں۔ سینیٹ سفیروں اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر نامزدگیوں کی منظوری میں بھی کردار رکھتی ہے۔نئی کانگریس جنوری میں کام سنبھالے گی۔ اس کے بعد صدر کی خارجہ پالیسی کو جانچنے اور بعض اقدامات کی قیمت بڑھانے کے لیے ڈیموکریٹس کے پاس کئی آئینی راستے ہوں گے۔ تاہم، بڑی پالیسی تبدیلی کے لیے انہیں اپنے ارکان کو متحد رکھنے کے ساتھ بعض ریپبلکن ارکان کی حمایت بھی درکار ہو سکتی ہے۔ صدر کا ویٹو بھی قانون سازی کو مشکل بنا سکتا ہے۔ لہٰذا انتخابی نتیجہ ایک نیا سیاسی توازن ہے، کسی ایک جماعت کو مکمل اختیار مل جانا نہیں۔

ایران جنگ پر بڑھے گا دباؤ

عالمی سیاست پر سب سے فوری اثر ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے پھیلاؤ کے خطرے سے متعلق ہو سکتا ہے۔ انتخابی مہم میں جنگ، اس کے جواز اور اس کے معاشی اثرات پر شدید بحث ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس نے جنگ کے لیے کانگریس کی منظوری نہ لینے پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اب وہ دفاعی اخراجات، حکام کی نامزدگیوں اور عوامی سماعتوں کو استعمال کرتے ہوئے جنگ کے مقاصد، مدت اور اخراجات پر وضاحت طلب کر سکتے ہیں۔اس سے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کو یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ امریکی انتظامیہ پر جنگ جاری رکھنے کے سلسلے میں اندرونی دباؤ بڑھے گا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔ صدر کے پاس فوجی کمان کے اہم اختیارات موجود ہیں، اور کانگریس میں قانون سازی کا راستہ سیاسی طور پر دشوار ہو سکتا ہے۔ البتہ سماعتوں اور بجٹ پر بحث سے جنگ کے فیصلوں کی سیاسی اور مالی قیمت بڑھ سکتی ہے۔ خطے کے ممالک کے لیے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ واشنگٹن کی پالیسی پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں اب صدر کے ساتھ کانگریس بھی زیادہ نمایاں ہو گی۔ایران جنگ کے معاشی اثرات بھی امریکی سیاست کو عالمی منڈیوں سے جوڑتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ صرف امریکی صارفین کا مسئلہ نہیں؛ تیل درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک، خلیجی معیشتوں اور یورپی منڈیوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اگر کانگریس جنگ پر دباؤ بڑھاتی ہے تو سفارتی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے، مگر سیاسی تنازعے کے باعث امریکی پالیسی میں غیر یقینی بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے جنگ ختم ہونے کی امید کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا واشنگٹن کا اگلا قدم واضح اور قابلِ پیش گوئی ہوگا۔

یوکرین اور یورپ کے لیے امید، مگر ضمانت نہیں

یوکرین کے معاملے میں ڈیموکریٹک اکثریت سے امریکی امداد پر کانگریس میں دوبارہ بحث کی گنجائش بڑھے گی۔ رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس یوکرین کی مدد کو ترجیح دے سکتے ہیں، اور اس معاملے میں انہیں بعض ریپبلکن ارکان کی حمایت بھی مل سکتی ہے۔ کانگریس میں امداد کی قرارداد یا بجٹ شامل ہونے سے کیف کو ایک سفارتی سہارا مل سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے براہِ راست مالی اور فوجی امداد محدود رکھی ہے۔لیکن کانگریس کی اکثریت سے یورپ کے ساتھ امریکی تعلقات فوراً سابقہ حالت میں نہیں آئیں گے۔ یورپی رہنماؤں نے انتخابی نتائج پر کسی حد تک اطمینان ظاہر کیا، تاہم کئی نے خبردار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے نیٹو، تجارت اور یورپی دفاع سے متعلق رویے میں فوری تبدیلی کی ضمانت نہیں۔ صدر اب بھی امریکی خارجہ پالیسی کی سمت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں؛ کانگریس کی کارروائی زیادہ تر نگرانی، بجٹ اور سیاسی دباؤ کے ذریعے ہوگی۔یورپ کے لیے ایک بڑا سبق یہ بھی ہے کہ امریکی انتخابی نتائج پر مکمل انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر واشنگٹن میں صدارتی انتظامیہ اور کانگریس کے درمیان اختلاف بڑھتا ہے تو نیٹو اور یورپی سلامتی کے معاملات میں امریکی پیغام متضاد ہو سکتا ہے۔ اسی لیے یورپی ممالک اپنی دفاعی صلاحیت اور اسٹریٹجک خودمختاری پر توجہ جاری رکھ سکتے ہیں، چاہے کانگریس میں انہیں زیادہ ہمدرد آوازیں میسر ہوں۔

تجارت میں بڑی تبدیلی کی راہ مشکل

تجارتی پالیسی میں ڈیموکریٹس کی جیت کا اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ٹیرف نے کئی ملکوں کے ساتھ تجارتی تناؤ پیدا کیا ہے، اور امریکی اتحادیوں کو امید ہو سکتی ہے کہ کانگریس ان اقدامات پر دباؤ ڈالے گی۔ لیکن صدر کو ٹیرف لگانے کے لیے کانگریس نے پہلے ہی بعض اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ انہیں واپس لینے یا محدود کرنے کے لیے قانون سازی درکار ہوگی، اور صدر کا ویٹو اس راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے تجزیے کے مطابق کانگریس کی نئی اکثریت اکیلے ٹیرف پالیسی تبدیل نہیں کر سکتی۔تاہم، سماعتیں اور بجٹ پر مذاکرات تجارتی فیصلوں کے سیاسی نتائج کو سامنے لا سکتے ہیں۔ اتحادی ممالک، خاص طور پر کینیڈا اور یورپی ریاستیں، کانگریس میں موجود ڈیموکریٹس سے رابطے بڑھا سکتی ہیں۔ اس سے مذاکرات میں انہیں کچھ اضافی سیاسی گنجائش مل سکتی ہے، مگر کسی فوری تجارتی معاہدے یا ٹیرف کے خاتمے کی ضمانت نہیں بنتی۔

چین کے ساتھ مقابلہ اور تعاون

چین کے حوالے سے امریکی پالیسی میں بھی تسلسل اور تبدیلی دونوں کے امکانات ہیں۔ دونوں جماعتوں میں چین کے بارے میں سخت گیر سوچ موجود ہے، اس لیے ڈیموکریٹس کی جیت سے اسٹریٹجک مقابلہ ختم نہیں ہوگا۔ البتہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بحرانوں کے رابطے اور تجارتی قواعد جیسے شعبوں میں کانگریس سفارتی مکالمے کی حمایت کر سکتی ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے تجزیے میں امریکی اور چینی حکام کے درمیان مصنوعی ذہانت کے خطرات پر جاری رابطے کو ایسے موضوعات میں شمار کیا گیا ہے جنہیں ڈیموکریٹک اکثریت آگے بڑھانے کی کوشش کر سکتی ہے۔

اٹلانٹک کونسل

یہ پیش رفت اہم ہو سکتی ہے، کیونکہ امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت اور عسکری ٹیکنالوجی کا مقابلہ عالمی سلامتی، منڈیوں اور ڈیجیٹل قواعد پر اثر ڈالتا ہے۔ پھر بھی، کانگریس میں مکالمے کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن بیجنگ کے ساتھ بنیادی اختلافات چھوڑ دے گا۔ تائیوان، بحیرہ جنوبی چین اور ٹیکنالوجی کی برآمدات جیسے معاملات میں مقابلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

عالمی ردِعمل اور پاکستان کے لیے سبق

دنیا کے کئی رہنماؤں نے ڈیموکریٹس کی کامیابی کو امریکی سیاست میں تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا، مگر ساتھ ہی احتیاط بھی برتی۔ یورپی اتحادیوں نے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن کا لہجہ کم تصادمی ہو سکتا ہے؛ کینیڈا نے کہا کہ نئے کانگریسی توازن سے اسے تجارتی معاملات میں کچھ اضافی گنجائش مل سکتی ہے۔ اس کے باوجود کسی حکومت نے یہ فرض نہیں کیا کہ امریکی پالیسی فوراً بدل جائے گی۔پاکستان سمیت دوسرے ممالک کے لیے اس انتخاب کا اہم سبق یہ ہے کہ امریکہ کی پالیسی کو صرف صدر کے بیانات سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ کانگریس کے اندر بجٹ، سفارتی تقرریوں، پابندیوں، انسانی امداد اور دفاعی فیصلوں پر بحث خارجہ تعلقات کے راستے بدل سکتی ہے۔ پاکستان کو واشنگٹن کے دونوں مراکزوائٹ ہاؤس اور کانگریس کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطہ رکھنا ہوگا، اور اپنے مفادات کو ایک جماعت کی انتخابی کامیابی سے وابستہ کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔آخرکارڈیموکریٹس کی جیت عالمی سیاست میں فوری انقلاب نہیں، مگر امریکی طاقت کے استعمال پر نئی نگرانی ضرور ہے۔ ایران جنگ پر سوالات، یوکرین کے لیے ممکنہ امداد، اتحادیوں سے تعلقات، ٹیرف اور چین کے ساتھ ٹیکنالوجی مکالمہ ایسے میدان ہیں جہاں یہ تبدیلی محسوس ہو سکتی ہے۔ دنیا کو ایک زیادہ متوازن واشنگٹن کی امید ہو سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر اب بھی اہم فیصلے کر سکتے ہیں اور کانگریس بھی انہیں روکنے کے لیے سیاسی و آئینی جدوجہد کرے گی۔ اس کشمکش کا نتیجہ ہی آنے والے دو برسوں میں امریکہ کی عالمی ساکھ اور اس کے اتحادیوں کے اعتماد کا امتحان بنے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا