مسعود چوہدری
اسلام آباد کی سیاست میں لفظوں کی گرمی نئی بات نہیں، مگر جب پارلیمان کے ایوانوں میں سیاسی اختلاف ذاتی حملوں تک پہنچ جائے اور اسی دوران ایک بڑی جماعت کے سربراہ کی رہائش گاہ اور اس سے منسلک مدارس کو سرکاری نوٹس جاری ہوں تو معاملہ محض تلخ بیانات تک محدود نہیں رہتا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور حکومتی وزرا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے یہی سوال اٹھایا ہے: کیا ریاستی قانون سب کے لیے یکساں لاگو ہو رہا ہے، یا سیاسی محاذ آرائی نے انتظامی کارروائیوں پر بھی شکوک کا سایہ ڈال دیا ہے؟اس تنازعے کے کئی دھاگے ہیں۔ ایک طرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج، امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی پر اختلاف ہے؛ دوسری طرف تہران میں علاقائی رابطوں کے ایک اجلاس پر مولانا فضل الرحمان کی تنقید اور وزرا کا جواب۔ ان سب کے بیچ دارالحکومت ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے نوٹسوں نے بحث کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان نے تہران اجلاس کے تناظر میں سوال اٹھایا کہ اگر دفاعی نوعیت کا معاہدہ زیرِ بحث تھا تو وزیرِ دفاع خواجہ آصف وہاں کیوں نہیں تھے اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی شرکت کس حیثیت سے تھی۔
خواجہ آصف نے جواب دیا کہ اجلاس دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا، اس لیے ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔ ان کے مطابق پاکستانی قیادت کا کردار خطے میں مکالمے اور کشیدگی کم کرنے سے جڑا تھا۔ محسن نقوی نے سینیٹ میں کہا کہ وہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایران سے متعلق جاری بحران کے معاملات کے لیے گئے تھے۔ اس وضاحت کے باوجود گفتگو جلد پالیسی سے نکل کر ایک دوسرے کی اہلیت اور نیت پر حملوں میں بدل گئی۔سینیٹ میں محسن نقوی اور جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ نقوی نے مولانا فضل الرحمان کے بعض بیانات کو ریاست مخالف قرار دیا، پارٹی پر مذہب کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ جے یو آئی نے اداروں کے بارے میں نامناسب باتیں کی ہیں۔ اپوزیشن کے احتجاج پر ایوان کی صدارت کرنے والے شاہادت اعوان نے نقوی کے ایک لفظ کو کارروائی سے حذف کرنے کا اعلان کیا۔ یوں ایوان، جہاں دلیل اور جواب دہی کا معیار قائم ہونا چاہیے، خود لفظی جنگ کا منظر بن گیا۔تنازعے کا دوسرا محاذ خیبر پختونخوا ہے۔ حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج اور امن و امان کے اقدامات کا دفاع کیا جا رہا ہے؛ مولانا فضل الرحمان نے ان فیصلوں اور حکومت کے آئینی طرزِ عمل پر اعتراض کیا ہے۔ جے یو آئی کے مطابق ان کی تنقید حکومتی پالیسیوں پر ہے، ریاستی اداروں کے وجود یا قومی سلامتی پر نہیں۔
حکومتی وزرا اس مؤقف کو تسلیم کرنے کے بجائے بعض بیانات کو اداروں کے خلاف حملہ قرار دے رہے ہیں۔ یہاں اصل سوال یہی ہے کہ سیاسی تنقید کی حد کہاں ختم ہوتی ہے، اور کیا کسی بیان کو محض سخت یا ناموافق ہونے کی وجہ سے ریاست مخالف کہا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب نعروں سے نہیں، بیان کے سیاق، الفاظ اور شواہد کی بنیاد پر آنا چاہیے۔اسی کشیدگی کے دوران سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ اور جے یو آئی سے منسلک مدارس میں مبینہ تعمیراتی خلاف ورزیوں پر نوٹس جاری کیے۔ اطلاعات کے مطابق رہائش گاہ کے معاملے میں سیٹ بیک کے اندر تعمیر، حفاظتی کیبن اور سرکاری زمین پر جنریٹر جیسے امور اٹھائے گئے اور خلاف ورزیاں دور کرنے کے لیے پندرہ دن دیے گئے۔ دو مدارس کو بھی منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیرات کے الزامات پر نوٹس بھیجے گئے۔ ادارے نے عدم تعمیل کی صورت میں عمارت سیل کرنے یا غیر مجاز تعمیرات گرانے سمیت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
جے یو آئی کی جانب سے ان نوٹسوں کو سیاسی انتقام سے جوڑا گیا۔ مولانا اسعد محمود نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب پارٹی نے پشاور میں ایک اعلیٰ فوجی افسر کی رہائش گاہ کے سامنے مبینہ تجاوزات کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کو ایک فرد کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کارروائی کو اسلام آباد میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسی خلاف ورزیوں پر دوسرے املاک مالکان کو بھی نوٹس دیے گئے اور کارروائی کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں۔یہاں دو باتیں بیک وقت درست ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ اگر تعمیرات واقعی منظور شدہ قواعد کے خلاف ہیں تو سیاسی عہدہ یا مذہبی شناخت کسی کو قانون سے استثنا نہیں دے سکتی۔ دوسری یہ کہ کسی کارروائی کا قانونی جواز ہونا اس شبہے کو خود بخود ختم نہیں کرتا کہ اس کا وقت یا انتخاب سیاسی دباؤ سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سی ڈی اے اپنے نوٹس، متعلقہ ضابطے اور معائنے کی تفصیل واضح کرے، اور یہ بھی دکھائے کہ اسی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر دیگر افراد اور اداروں کے خلاف یکساں کارروائی ہو رہی ہے۔
کسی نوٹس کو صرف سیاسی انتقام کہنا درست نہیں؛ لیکن حکومت کے محض ’’معمول کی کارروائی‘‘ کہہ دینے سے بھی شفافیت کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔اس معاملے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ رہائش گاہ کے بارے میں 2019ء میں بھی غیر مجاز تعمیرات ہٹانے کا نوٹس جاری ہوا تھا۔ یہ سابقہ کارروائی موجودہ نوٹس کو لازماً بے بنیاد نہیں بناتی، مگر یہ ضرور بتاتی ہے کہ معاملہ آج کے سیاسی اختلاف سے پہلے بھی انتظامی ریکارڈ میں موجود رہا ہے۔ اس تفصیل کو نظرانداز کرکے ہر کارروائی کو تازہ انتقام کہنا ادھوری تصویر پیش کرے گا۔ اسی طرح گزشتہ نوٹس کا حوالہ دے کر موجودہ اقدام کی غیر جانب داری خودبخود ثابت نہیں ہوتی؛ اس کے لیے مہم کے دائرے اور دوسرے کیسوں کی مثالیں سامنے لانا ضروری ہے۔حکومت کے لیے مناسب راستہ یہ نہیں کہ ہر تنقید کو ریاست مخالف قرار دے کر سیاسی مخالف کو خاموش کرنے کی کوشش کرے۔ اگر کسی بیان میں واقعی قانون شکنی یا اداروں کے خلاف قابلِ کارروائی مواد موجود ہے
تو اس کی نشان دہی شواہد کے ساتھ کی جائے اور آئینی طریقہ اختیار ہو۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی کے لیے بھی ضروری ہے کہ اداروں پر تنقید کرتے ہوئے بات کو واضح اور ذمہ دارانہ رکھیں، تاکہ پالیسی پر سوال اور قومی اداروں کی تضحیک ایک ہی خانے میں نہ ڈالے جا سکیں۔سی ڈی اے کو بھی اپنی کارروائی کا معیار سب کے سامنے رکھنا چاہیے۔ قانون کا وقار اسی وقت قائم ہوتا ہے جب وہ طاقت ور اور کمزور، حکومتی حامی اور مخالف، سب پر یکساں لاگو ہو۔ اگر خلاف ورزی ہے تو اسے درست کرایا جائے؛ اگر نوٹس غلط ہے تو قانونی فورم پر چیلنج کیا جائے۔ سیاسی رہنماؤں کی تقاریر، دھمکی آمیز جوابات اور سوشل میڈیا کے الزامات اس عمل کا بدل نہیں بن سکتے۔پارلیمان میں سخت اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، مگر اسے گالی، دھمکی اور الزام کی نذر کرنا جمہوری اداروں کو کمزور کرتا ہے۔ وزرا کو ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے ضبط دکھانا چاہیے، اور اپوزیشن رہنماؤں کو اپنی تنقید کو شواہد اور آئینی اصولوں سے جوڑنا چاہیے۔ اس وقت ملک کو شور سے زیادہ وضاحت درکار ہے: خیبر پختونخوا میں حکومت کا آئینی جواز کیا ہے؟ تہران اجلاس کا مقصد کیا تھا؟ سی ڈی اے کے نوٹس کن قواعد کے تحت اور کس یکساں معیار پر جاری ہوئے؟ ان سوالوں کے جواب سامنے آئیں تو سیاسی بدگمانی کم ہو سکتی ہے۔ ورنہ لفظی جنگ جاری رہے گی، اداروں پر اعتماد گھٹے گا، اور عوامی مسائل ایک بار پھر سیاست کے شور میں دب جائیں گے۔





