ترکی کے شہر استنبول میں قتل کیے گئے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی اہلیہ حنان ایلاتر کو امریکا میں سیاسی پناہ مل گئی۔ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو 2018 میں استبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں قتل کیا گیا تھا۔شوہر کی موت کے بعد جمال خاشقجی کی اہلیہ حنان ایلاتر اگست 2020 میں امریکا پہنچیں اور سیاسی پناہ کی درخواست دائر کی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق حنان ایلاتر کو 28 نومبر کو غیر معینہ مدت کے لیے سیاسی پناہ مل گئی ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے منسلک سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر 2018 کو ترکی میں استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے سے لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد ان کو قتل کیے جانے کی تصدیق ہوئی تھی۔بعد ازاں سعودی عرب کی جانب سے اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں واقع قونصل خانے میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔برطانوی میڈیا کے مطابق سعودی صحافی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو بے دردی سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا تھا جبکہ گمشدگی کے چند روز بعد جمال خاشقجی کے جسم کے اعضا سعودی قونصلر جنرل کے گھر کے باغ سے برآمد ہوئے تھے۔بعدازاں سعودی عدالت نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 5 ملزمان کو قید کی سزائیں سناتے ہوئے مقدمے کو ختم کردیاتھا تاہم بعد ازاں مقتول صحافی کے لواحقین نے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد قانون کے تحت سزائیں کم کی گئی تھیں۔واضح رہیکہ امریکا نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ جاری کی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کو پکڑنے یا قتل کرنے کے لیے ترکی کے شہر استنبول میں آپریشن کی منظوری دی۔تاہم سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر امریکی رپورٹ مسترد کردی تھی۔





