پاک ایران تعلقات میں بگاڑ بڑھنا نہیں چاہیے،ن لیگ، PP

0
331
khwaja asif ,shery rehman

اسلام آباد:سابق پاکستانی سفیروں نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایرانی حملے کے جواب میں صوبہ سیستان میں دہشتگردوں کے خلاف کیے گئے آپریشن مرگ بر، سرمچار پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ اور سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کو سوچ سمجھ کر جواب دیاہے۔اور ثابت کیا کہ ہم بھی ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ نے اس صورتحال کے برعکس ایسا جواب دیا جس نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر اور سابق سفیر شیری رحمان نے کہا کہ پاک ایران سرحد پر کئی سال سے اس قسم کے ایشوز ہوتے رہے ہیں۔شیری رحمان نے کہا کہ ایران کو اگر کچھ خدشات تھے تو وہ پاکستان کو آگاہ کرتا، ایران کی جانب سے پاکستانی خودمختاری پر حملہ غیر متوقع تھا، بہتر ہوگا کہ دونوں ملک اس قسم کے تنازعات کو مزید بڑھنے نہ دیں ۔سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ ایران نے پاکستانی علاقے میں حملہ کر کے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، مزید یہ کہ ایرانی وزیر خارجہ نے بلوچستان میں کارروائی کی عجیب منطق پیش کی کہ ہم نے ایران دشمن دہشتگردوں پر حملہ کیا، معاملہ دہشتگردوں پر حملے کا نہیں بلکہ معاملہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی تھی، پاکستانی فورسز نے جواب دے کر بتایا کہ ہماری افواج بھی جواب دینے کی طاقت رکھتی ہیں۔سابق سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کو معاملہ سفارتکاری سے حل کرنا چاہیے۔سابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہمیں کشیدگی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے، کوشش کرنی چاہیے کہ ایران سے تعلقات مزید خراب نہ ہوں۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور ایران کو مشترکہ حکمت عملی بنانی چاہیے، پاکستان اورایران میں بلوچ علیحدگی پسند تحاریک چل رہی ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور ایران کو ان تحاریک سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا