اقدامات نہ کئے تو روپیہ ایک بار پھر دباؤ میں آ سکتا ہے، ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن

0
170

جو بھی نئی حکومت آئے گی اس پر انتہائی زیادہ بوجھ ہوگا اس لئے سیاسی جماعتوں کی معاشی ٹیموں کو پیشگی تیاری کرنا ہو گی۔ ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبد الغفار اور جنرل سیکرٹری خواجہ ریاض حسین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو رواں سال 25 ارب ڈالر جبکہ آئندہ 3 برسوں میں 71 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ درکار ہو گی۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو دوست ممالک سے لئے گئے قرضوں کو ایک بار پھر رول اوور کرانا پڑے گا، ان قرضوں پر پاکستان کو بیشک کم شرح سے سود کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے لیکن یہ ایک اضافی بوجھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو پائیدار بنانے کی جانب توجہ مرکوز کر نا ہو گی، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے مراعات دی جائیں، اوور سیز پاکستانیوں سے اپیل کی جائے کہ وہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو برآمدات بڑھانے پر خصوصی توجہ دینا ہو گی، ترسیلات زر کو قانونی طریقے سے ملک میں لانے کے لئے بھی سکیمیں دی جائیں تاکہ ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر مضبوط ہو سکیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا