چیف الیکشن کمشنراستعفیٰ دیں،چیف جسٹس کمیشن بنائیں، وزیراعلیٰ گنڈہ پورکا مطالبہ

0
263

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور نے جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے 8 فروری کے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کے مینڈیٹ کو چرانے میں اپنے کردار کا الزام لگا یا ہے اپنی جیت کے بعد میں قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے گنڈا پور نے پی ٹی آئی کے بانی کی توقعات پر پورا اترنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کے آزاد اور منصفانہ ٹرائل اور جیل سے رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے قائد نے 27 سال تک قوم کے لیے جدوجہد کی اور وہ درست کہتے تھے کہ ہم آزاد نہیں بلکہ غلام ہیں اور ہمیں حقیقی آزادی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کوئی انتقام نہیں چاہتی، انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جس کا کوئی اس ملک میں غلط استعمال نہ کر سکے۔ کشمیر کے لوگوں کے لیے آواز،’ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حقوق چھیننا جانتے ہیں۔ ہمیں ہمارا حق دینا ریاست کی ذمہ داری ہے آج پورے قوم کو پتہ چل گیا کہ منتخب کون ہے۔ یہ منتخب لوگ عوام کا پیسہ چوری کرنے کے لیے بار بار حکومت کرنے آتے ہیں۔

وزیراعلیٰ گنڈا پور نے پھر کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے 80 فیصد کاغذات مسترد کیے گئے جنہیں بعد میں عدالتوں نے بحال کر دیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی خواتین امیدواروں کے خلاف پہلی اطلاعاتی رپورٹس (ایف آئی آر) کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے 9 مئی کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ کرپشن نہیں کریں گے اور کسی اور کو کرنے نہیں دیں گے۔ کے پی کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے گنڈا پور نے کہا کہ وہ صوبے کی آمدن بڑھانے پر توجہ دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ غریبوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے۔

ہم جائیداد، وراثت کا حق، خواتین کو مفت قانونی مدد دیں گے،’ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ روزگار پیدا کرنے کے لیے تجارت اور کاروبار کی ترقی میں سرمایہ کاری کریں گے۔ عوام کو رمضان المبارک کے پہلے دن سے ہیلتھ کارڈ مل جائے گا، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے کمیشن بنائیں گے وزیر اعلی ٰٰگنڈاپور نے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا، نے 90 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے امیدوار ڈاکٹر عباد اللہ خان صرف 16 ووٹ حاصل کر سکے۔ انہیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرینزکی حمایت حاصل تھی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا