قندھار : طالبان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گروپ کے سربراہ ملا ہیبت اللہ، جو عوامی سطح پر نظر نہیں آتے، نے بدھ 11 اپریل کو قندھار شہر میں عید الفطر کی نماز ادا کی، جس میں ہزاروں نمازیوں نے شرکت کی۔
اس معاملے پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ بدھ کے روز عید الفطر کی نماز کا انعقاد کیا گیا جس میں گروپ کے رہنما کی قیادت میں قندھار شہر کی مرکزی عید میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ عید الفطر کی نماز میں طالبان رہنما کی موجودگی اس لیے سامنے آئی ہے کیونکہ اب تک نمازیوں میں اس گروپ کے رہنما کی کوئی تصویر یا ویڈیو شائع نہیں کی گئی ہے۔ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ طالبان کی جانب سے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔
ایک نمازی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے وہاں موجود ہزاروں نمازی اخوندزادہ کو دیکھنے سے قاصر تھے۔ دریں اثناء افغان خبر رساں اداروں نے خبر دی ہے کہ طالبان رہنما نے افغانستان میں شریعت کی حدود کے نفاذ کا اعادہ کیا ہے۔ قندھار کی عیدگاہ مسجد میں عید الفطر کی نماز سے خطاب کرتے ہوئے طالبان رہنما نے ممالک سے کہا کہ ‘دباؤ کے ساتھ وہ انہیں اپنے راستے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔ کابل اور قندھار میں طالبان کی سخت سیکیورٹی میں عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔ طالبان نے کابل، قندھار اور افغانستان کے کچھ دیگر صوبوں میں بھی انٹینا کاٹ دیے۔






