واشنگٹن: امریکا نے اپنی بڑی دفاعی کمپنیوں کو میزائل اور دیگر جدید ہتھیاروں کی پیداوار 2 سے 4 گنا تک بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ چین کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تنازع کی صورت میں اسلحے کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پینٹاگون اپنے کمزور دفاعی ذخائر پر شدید تشویش میں مبتلا ہے اور اسی لیے لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون اور دیگر بڑی کمپنیوں کو تیز رفتار پیداوار کے شیڈول دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں کئی اہم اجلاس بھی ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کمپنیوں نے نئی بھرتیاں شروع کر دی ہیں، فیکٹریوں کی توسیع اور پرزہ جات کے اضافی ذخائر کی تیاری پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے۔ امریکا خاص طور پر پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل، لانگ رینج اینٹی شپ میزائل اور اسٹینڈرڈ میزائل 6 کی بڑے پیمانے پر تیاری چاہتا ہے۔
ستمبر میں امریکی فوج نے لاک ہیڈ مارٹن کو تقریباً 10 ارب ڈالر کا معاہدہ دیا، جس کے تحت 2026 تک 2 ہزار سے زائد پیٹریاٹ میزائل تیار کیے جائیں گے۔ پینٹاگون کا ہدف ہے کہ یہ پیداواری رفتار مستقبل میں بھی برقرار رکھی جائے تاکہ چین کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں اسلحے کی کمی نہ ہو۔






