وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے استعفے سے سرکاری نظام مفلوج، فائلیں رُک گئیں

0
159

پشاور — وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد صوبائی حکومت کے انتظامی امور تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ وزراء نے بھی سرکاری ذمہ داریاں چھوڑ دی ہیں جبکہ فائلوں کی کارروائیاں محکموں میں رکی ہوئی ہیں۔ اس وقت امور حکومت عملاً چیف سیکرٹری کے دفتر تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

محکموں کے دفاتر میں وزراء کی عدم موجودگی کے باعث متعدد اہم فیصلے اور فائل ورک تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

چونتیس گھنٹے بعد بھی استعفا لاپتا

علی امین گنڈاپور کی جانب سے گورنر کو بھیجا گیا استعفا 34 گھنٹے گزرنے کے باوجود گورنر ہاؤس کو موصول نہیں ہوا۔ استعفے کی عدم دستیابی نے ایک آئینی بحران کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے استعفے کے متن اور طریقہ کار پر پہلے ہی اعتراضات سامنے آ چکے ہیں، تاہم یہ بھی واضح نہیں کہ استعفا آخر کہاں ہے۔

وزیراعلیٰ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ استعفا باضابطہ طور پر گورنر ہاؤس بھجوا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب گورنر ہاؤس ذرائع کا مؤقف ہے کہ اب تک کوئی استعفا موصول نہیں ہوا، جس کے بعد معاملہ ایک معمے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا