لاپتا افراد کیس: 15 سالہ بچے کے اغوا اور گھروں کو جلائے جانے پر عدالت برہم

0
143

پشاور — پشاور ہائی کورٹ نے لاپتا افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریاستی اداروں کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ پرامن شہریوں کو ہراساں کرنے سے نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جسٹس اعجاز انور نے 15 لاپتا افراد کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل، متعلقہ محکموں کے فوکل پرسنز اور درخواست گزاروں کے وکلا پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت ایک وکیل نے مؤقف اپنایا کہ 25 اگست کو سی ٹی ڈی اور مقامی پولیس نے بغیر لیڈی پولیس کے ان کے موکل کے گھر چھاپہ مارا اور 15 سالہ بیٹے کو اٹھا لیا۔ وکیل نے مزید بتایا کہ 27 اگست کو اہلکاروں نے درخواست گزار کے تین گھروں کو بھی آگ لگا دی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف دیا کہ ساجد اللہ، جو لاپتا فرد کا بھائی ہے، دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ شخص 4 سال پہلے گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا، خاندان نے اخبارات میں لاتعلقی کے اشتہارات بھی شائع کرائے، اگر اس پر شک ہے تو اسی کے خلاف کارروائی کی جائے، نہ کہ معصوم اہلخانہ کو نشانہ بنایا جائے۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ طلب کی جائے تاکہ تصدیق ہو سکے کہ گھروں کو جلایا گیا یا نہیں۔

جسٹس اعجاز انور نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “جو پرامن لوگ ہیں، آپ ان کو بھی تنگ کرکے نفرت بڑھا رہے ہیں۔” عدالت نے ڈپٹی کمشنر بنوں کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام فریقین سے آئندہ سماعت پر رپورٹس طلب کر لیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا