ریاست نے بلوچستان میں کبھی طاقت کا اندھا دھند استعمال نہیں کیا، وزیراعلیٰ

0
506

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست نے بلوچستان میں کبھی طاقت کا اندھا دھند استعمال نہیں کیا اور محدود و ہدفی کارروائی کو ریاستی آپریشن کہنا حقائق کے منافی ہے۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل اور قوم کا اصل سرمایہ ہیں، اور نسلِ نو کو درست تاریخی حقائق اور قومی بیانیے سے آگاہ کرنا ناگزیر ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظم جھوٹے بیانیے پھیلا کر نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کیے گئے، لیکن تشدد اور انتشار کے ذریعے ریاست کو کمزور کرنے کے خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ بغیر تحقیق کسی منفی بیانیے کی اندھی تقلید نہ کریں بلکہ مثبت اور سچ پر مبنی سوچ اپنائیں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں موثر طرز حکمرانی کا عملی ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے اور ناقص حکمرانی ریاست مخالف جبکہ بہتر حکمرانی ریاستی استحکام کی ضامن ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں 3200 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں، پسماندہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، اور بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کے تحت طلبہ، سویلین شہداء کے بچے، اقلیتیں اور خواجہ سرا افراد بھی اسکالرشپس حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ہر طالب علم کو دنیا کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں اور دو سو سے زائد عالمی جامعات میں پی ایچ ڈی کے لیے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان کی بہتری کے لیے وہ آخری دن، آخری گھڑی اور آخری لمحے تک کام کرتے رہیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا