وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کے گھر پہنچ گئے۔
شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اجرک پہنا کر خوش آمدید کہا، جبکہ اس موقع پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہربانو قریشی بھی موجود تھیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ “یہ میرا پاکستان ہے، جہاں دل چاہے گا جاؤں گا، مجھے ملک میں گھومنے کے لیے کسی جواز کی ضرورت نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ لاہور میں تنظیمی دوستوں سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ “ہماری حکومت نے جیل میں قید قیادت سے ملاقات کے لیے باقاعدہ خط لکھا، مگر ہمیں کوئی جواب نہیں دیا گیا، اس لیے اب ہم اپنے اسیران کے گھروں میں جا کر ان سے اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔”
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہیں نہ پارٹی کے بانی عمران خان سے ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی دیگر قیادت سے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ “اس قسم کا رویہ ذہنی پستی کی علامت ہے۔ حکومت سے مذاکرات کی ذمہ داری تحریک تحفظ آئین پر ہے، جبکہ اسٹریٹ موومنٹ چلانا میری ذمہ داری ہے اور میں اسے بھرپور طریقے سے چلاؤں گا۔”
بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسیر رہنما یاسمین راشد اور سینیٹر اعجاز چوہدری کے گھروں پر بھی گئے۔ اعجاز چوہدری کی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ناحق قید اسیران کو دیکھ کر ہمیں حوصلہ ملتا ہے، ہم ان کی جدوجہد کو سلام اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن لیڈر طویل گفتگو کرتا ہے اور حکومت اسے نہیں روکتی، “مگر یہاں جو رویہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔”
سہیل آفریدی نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے صوبوں کے درمیان نفرتیں پھیل رہی ہیں۔ “ان لوگوں کا مقصد اقتدار میں رہ کر دولت بنانا اور اقتدار سے باہر ہو کر ملک چھوڑ دینا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہر شہری وزیراعلیٰ سے سوال کر سکتا ہے، “یہ لوگ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کا رویہ سب کے سامنے ہے۔”






