وزارتِ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے خلاف عالمی تعاون اور مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں چین کی معروف دوا ساز کمپنی ہواہوئی ہیلتھ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران چینی کمپنی کی جانب سے جدید تحقیق پر مبنی ہیپاٹائٹس ڈیلٹا تھراپی کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ دوا حال ہی میں فیز ٹو کے کامیاب بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز مکمل کر چکی ہے اور چین میں اس کے محفوظ اور مؤثر ہونے کی بنیاد پر منظوری بھی حاصل کر چکی ہے۔ مزید برآں، امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس علاج کو بریک تھرو تھراپی کا درجہ دیا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ حکومت، ہواہوئی ہیلتھ اور پاکستان کی ممتاز مقامی دوا ساز کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کے فروغ کے لیے اقدامات کرے گی۔ اس شراکت داری کے تحت جدید حیاتیاتی ادویات کی مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ایک سنگین طبی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ہیپاٹائٹس ڈی جگر کو متاثر کرنے والا ایک منفرد اور خطرناک وائرس ہے، جو صرف اس صورت میں بیماری پیدا کرتا ہے جب مریض میں ہیپاٹائٹس بی وائرس بھی موجود ہو۔





