بلوچستان کی صورتحال: دہشتگردوں کے مختلف شہروں میں حملے،18شہری شہید،3خود کش اور 90 دہشتگرد ہلاک

0
1205

کوئٹہ، گوادر، پنجگور سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے حملے ناکام بنا دیے گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں کے دوران 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فتنہ الہندوستان کے اسپانسرڈ دہشت گردوں نے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے 31 جنوری کو کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں بیک وقت حملے کیے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان حملوں کا مقصد شہری آبادی کو نشانہ بنا کر صوبے میں خوف و ہراس اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ دہشت گردوں نے گوادر اور خاران میں خواتین، بچوں اور مزدوروں سمیت 18 معصوم شہریوں کو شہید کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے کوئٹہ، گوادر، پنجگور اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے تمام حملے ناکام بنا دیے۔ کارروائیوں کے دوران 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جبکہ گزشتہ دو روز میں بلوچستان میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کلیئرنس اور تعاقبی آپریشنز کے دوران سکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گرد حملے پاکستان سے باہر بیٹھے دہشت گرد سرغنوں کی ہدایات پر کیے گئے اور کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کا بیرونی ہینڈلرز سے براہ راست رابطہ بھی ثابت ہوا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سینٹائزیشن اور سرچ آپریشنز تاحال جاری ہیں۔ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا