اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ملک کا بیرونی قرضہ 100 ارب ڈالر پر برقرار ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں معاشی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیوں کے باوجود زرمبادلہ ذخائر مستحکم رہے، جبکہ رواں ماہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے فنڈز موصول ہونے کے بعد ذخائر 3 ماہ کی درآمدات کے مساوی ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 3 برسوں میں مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے گئے تاکہ زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔
جمیل احمد کے مطابق درآمدات میں اضافے کے باوجود گزشتہ 9 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا، جبکہ پاکستان کا بیرونی قرض جون 2020 کی طرح اب بھی 100 ارب ڈالر کی سطح پر قائم ہے۔
قائمہ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس کل ہوگا، جس میں پاکستان کے اگلے اقتصادی جائزے کی منظوری کا امکان ہے۔






