مسعود چوہدری
۔27 جولائ 2026 کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس محض ایک روٹین کاروائی نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی قوم کے ضمیر پر دستک تھی جو صدیوں سے اپنی تہذیبی میراث کو بے بسی سے لٹتا دیکھ رہی ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت سینیٹر ہدایت اللہ خان کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والے اس اجلاس میں سینیٹر عبد الواسع، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، سینیٹر سید وقار مہدی اور سینیٹر سرمد علی نے وہ سوالات اٹھائے جو برسوں سے حکومتی فائلوں میں دبے پڑے تھے۔
یہ معاملہ ملک محمد نواز سوکی اور خاکسار کی جانب سے کمیٹی چیئرمین کو بھیجی گئی درخواست پر سماعت کے لیے مقرر ہوا، اور جس طرح کمیٹی نے اسے سنجیدگی سے لیا، وہ پارلیمانی نگرانی کی ایک روشن مثال ہے۔
سیکریٹری وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے کمیٹی کو بتایا کہ 1970 کے یونیسکو کنونشن کے تحت پاکستان اور امریکہ کے مابین 2025 میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 513 نوادرات وطن واپس پہنچائے گئے، جو گزشتہ 80 برس کے دوران، اور بیشتر 1900 سے 1935 کے درمیان، غیر قانونی کھدائی کے بعد سمگلنگ کے ذریعے بیرونِ ملک اسمگل کیے گئے تھے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی کی ہدایت پر اس خاکسار نے ریکارڈ کی درستگی کرواتے ہوئے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ امریکی حکام کے بیان کے مطابق واپس آنے والے نوادرات کی تعداد دراصل 514 ہے، گو کہ پاکستانی میڈیا مسلسل 513 کا ہی نمبر بار بار بیان کرتا چلا جا رہا ہے
لیکن جو درست ہے وہی بیان کرنا چاہئے، یہ بظاہر ایک معمولی لیکن ایک ایسا فرق جو بذاتِ خود اس بات کی گواہی ہے کہ حکومتی اداروں کے پاس اپنے ہی قومی ورثے کا کوئی مربوط، تصدیق شدہ ریکارڈ موجود نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ دوران گفتگو سیکریٹری قومی ورثہ نے یہ بھی بیان کیا کہ انکی منسٹری کے پاس ایک لاکھ نوادرات موجود ہیں جن میں سے فقط 10 ہزار کے لگ بھگ ڈسپلے کیے جا سکے ہیں
اور وزارت کے پاس کوئ مناسب جگہ ہی میسر نہیں جہاں ان بیش قیمت نوادرات کو پاکستانیوں اور سیاحوں کے لیئے نمائش کے لیے رکھا جا سکے، جس پر متعدد صحافی دوست احباب کی رائے ہے کہ اگر نوادرات کی درست تعداد سے متعلق مصدقہ تفصیلات وزارت سے طلب کر لی گئیں تو وہ بھی فراہم کرنے میں منسٹری کو شاید سالوں کا وقت درکار ہو اور پھر بھی دعویٰ کے مطابق تفصیلات مکمل میسر نہ ہو سکیں، لیکن فی الوقت اس معاملہ کو یہیں ایک جانب رکھتے ہوئے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں۔
سیکریٹری وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے بقول واپس آنے والے نوادرات میں گندھارا تہذیب کے نایاب نوادرات، بدھ مت کے مجسمے اور یونانی و یورپی طرز کے آثار قدیمہ شامل ہیں، جن کی حقیقی قیمت کا تعین ممکن نہیں کیونکہ یہ قوم کا ناقابلِ تلافی اثاثہ ہیں۔ تاہم امریکی اداروں نے انہیں تقریباً 23 ملین ڈالر کا سمجھا، جس سے وزارت متفق نہیں، گویا ایک ہی معاملے پر مالیت کے تخمینے میں بھی وہی ابہام ہے جو تعداد میں پایا جاتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ سے چوری شدہ پاکستانی نوادرات وطن واپس آئے ہوں۔ نومبر 2022 میں امریکی حکام نے 192 نوادرات پاکستان کے حوالے کیے تھے، جن کی مالیت تقریباً 34 لاکھ ڈالر بتائی گئی، اور جو بھارتی نژاد امریکی اسمگلر سبھاش کپور کے نیٹ ورک سے برآمد ہوئے تھے۔ ان میں مہر گڑھ کی نایاب مٹی کی گڑیائیں بھی شامل تھیں جن کی عمر ساڑھے تین ہزار سے ساڑھے پانچ ہزار برس بتائی جاتی ہے، اور جنہیں دنیا کے قدیم ترین انسانی ساختہ مجسموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں واقع مہر گڑھ کی سائٹ، جسے ذرائع کے مطابق فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ ژاں فرانسوا ژاریج نے 1974 میں دریافت کیا تھا، آٹھ ہزار برس پرانی تہذیب کا مسکن ہے، مگر یہی سائٹ دیگر سائٹس کی مانند برسوں سے غیر قانونی کھدائی اور لوٹ مار کا نشانہ بنتی چلی آ رہی ہیں۔
گو کہ سیکریٹری صاحب نے تمام معاملہ پاکستان بننے سے پہلے کا بتا کر زیر زمین دفن کرنے کی کوشش کی لیکن اس بیان نے ثابت کیا کہ سیکریٹری صاحب کے ایڈوائزرز انہیں گمراہ کرنے میں کوئ کسر نہیں اٹھا رکھتے اور جو انہیں بریفنگ دی جاتی ہے وہی پاکستان کے اہم قانون دانوں کو بھی میسر آتی ہے۔ زمینی حقائق کی چھان بین سے معلوم ہوا کہ امریکی حکام کے مطابق سبھاش کپور کے نیٹ ورک جس کے تانے بانے پاکستان میں بھی پائے جاتے ہیں نے 2011 سے 2022 کے دوران دنیا بھر سے ڈھائی ہزار سے زائد نوادرات برآمد کیے، جن کی مجموعی مالیت 14 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے متجاوز بتائی گئی، جبکہ امریکی تحقیقات میں زاہد پرویز اور زیشان بٹ جیسے نام بھی سامنے آئے جنہوں نے اسلام آباد، بینکاک، ہانگ کانگ اور دبئی میں پھیلے خاندانی کاروبار کو چوری شدہ نوادرات کی عالمی منڈی تک رسائی کے لیے استعمال کیا، یہی وہ نام ہیں جن کی نشاندہی اس خاکسار نے کمیٹی کے سامنے بھی کی، مگر پاکستان میں ان کے خلاف کسی مقدمے یا تحقیقات کا سراغ تاحال نہیں ملتا۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ ایک نیٹورک ہے جسکے پکڑے جانے پر نشاندہی امریکی حکام نے کی اور اس پر پاکستان کو انکا شکر گزار بھی ہونا چاہیے کہ یہ پاکستان کے قومی ورثہ سے متعلق بہت اہم پیش رفت ہے لیکن دوسری جانب پاکستانی ذمہ داران و عہدیداران کی صورتحال پر کف افسوس ہی ملا جا سکتا ہے کہ متعدد دیگر نیٹورکس و منظم مافیا پر کسی قسم کا کوئ کام نہ کیا گیا اور نہ ہی وزارت نے اس میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں جہاں کسٹم حکام نے سمگلنگ کی کوشش کو بے نقاب کرتے ہوئے کاروائ کی وہاں بھی قانون کی عملداری میں متعدد نقائص کے سبب کوئ گناہگار بے نقاب نہ کیا جا سکا۔ یوں معصوم تھپکی نے منظم مافیا کی جڑوں کو اتنا مضبوط کر دیا کہ کوئ اسکے خلاف کاروائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
امریکہ سے چوری شدہ نوادرات کی واپسی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل جولائی 2019 میں فرانس نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے چوری شدہ ساڑھے چار سو کے لگ بھگ نوادرات پیرس میں پاکستانی سفارت خانے کو ایک تقریب میں واپس کیے تھے۔ یہ نوادرات، جن میں نال اور کلی تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے برتن، مجسمے اور مرتبان شامل تھے اور جن کی عمر چار ہزار برس تک بتائی جاتی ہے، 2006 اور 2007 کے دوران پیرس کے شارل دیگال ایئرپورٹ پر فرانسیسی کسٹم حکام نے اس وقت ضبط کیے تھے جب وہ پارسل کی صورت میں ایک نامعلوم پیرس گیلری کو بھیجے جا رہے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واپسی کی تعداد پر بھی مختلف بیانات میں تضاد رہا۔ دفترِ خارجہ نے 512 نوادرات کا ذکر کیا، بعض ذرائع نے 486 بتائی، جبکہ فرانسیسی و بین الاقوامی میڈیا نے 445 کی تصدیق کی۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ تو اس گیلری کا نام کبھی سرکاری طور پر ظاہر کیا گیا، نہ پاکستان میں اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک سے جڑے کسی مقامی سہولت کار کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔
خبر ہے کہ اٹلی میں بھی پاکستان سے چوری شدہ نوادرات پکڑے گئے ہیں جن میں سے متعدد جلد پاکستان کو واپس دیے جا رہے ہیں۔ یہاں بھی نمبر متضاد ہیں۔
یہ تمام واقعات یعنی 2019 کی فرانسیسی واپسی، 2022 کی امریکی واپسی،اور اب 2025 و 2026 کے معاہدات و واپسی، دراصل ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں۔ ایک ایسی قومی میراث جو دہائیوں سے بین الاقوامی بلیک مارکیٹ کا نوالہ بنتی رہی، اور جس کی حفاظت کے لیے کبھی کوئی مربوط، مسلسل اور شفاف نظام تشکیل نہیں دیا گیا۔
نیویارک، پیرس، دبئی، بینکاک اور ہانگ کانگ کی گیلریوں اور نیلامی گھروں تک پھیلا یہ نیٹ ورک مقامی کھودنے والے مزدوروں سے شروع ہو کر بین الاقوامی ڈیلروں تک پہنچتا ہے، اور اس پوری زنجیر میں کہیں نہ کہیں مقامی سرکاری سہولت کاروں کے ملوث ہونے کا خدشہ ہر باشعور تجزیہ کار نے ظاہر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ، فرانس اور اٹلی اپنی سرزمین پر برسوں کی تحقیقات کے بعد چوروں، اسمگلروں اور خریداروں تک پہنچ سکتے ہیں، تو پاکستان اپنی ہی سرزمین پر ان کھدائیوں، ان راستوں اور ان سہولت کاروں کی نشاندہی کیوں نہیں کر پاتا؟
یہی وہ سوال ہے جسے سینیٹر ہدایت اللہ خان کی قیادت میں کمیٹی نے پوری قوت سے اٹھایا۔ چیئرمین کا یہ کہنا کہ ثقافتی ورثے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے اور تمام ادارے مربوط حکمتِ عملی اپنائیں، محض رسمی بیان نہیں بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ اب جوابدہی سے فرار ممکن نہیں۔
سینیٹر عبد الواسع، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، سینیٹر سید وقار مہدی اور سینیٹر سرمد علی نے بھی جس یکسوئی سے وفاقی سیکریٹری موصوف سے سوال جواب کیا اور تفصیلی رپورٹ کا مطالبہ کیا، وہ پارلیمانی کمیٹیوں کے اس اصل کردار کی عکاسی کرتا ہے جو اکثر فائلوں کی گرد میں کھو جاتا ہے۔
کمیٹی نے درست کیا کہ اسمگلنگ نیٹ ورک، ملوث افراد، گمشدہ نوادرات اور تفتیش کی تفصیلات پر مشتمل جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں طلب کر لی، اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا وزارت اس بار روایتی ٹال مٹول کے بجائے حقیقی جوابات لے کر آتی ہے یا نہیں۔
قومی ورثہ کوئی سرکاری فائل نہیں بلکہ ایک تہذیب کی سانس ہے، اور جب تک ایف آئی اے، کسٹمز اور محکمہ آثارِ قدیمہ مل کر ایک ڈیجیٹل رجسٹری، مؤثر نگرانی اور بلا امتیاز احتساب کا نظام نہیں بناتے، مہر گڑھ جیسی آٹھ ہزار سالہ تہذیبیں یونہی بین الاقوامی گیلریوں کی زینت بنتی رہیں گی اور ذمہ دار ہمیشہ کی طرح نامعلوم رہیں گے۔ اپنے وطن کی مٹی سے محبت رکھنے والوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے توسط سے وہ پہلا پتھر رکھ دیا ہے
جس پر جوابدہی کی مضبوط عمارت کھڑی ہو سکتی ہے، اب قوم کی نظریں آئندہ اجلاس اور اس میں پیش ہونے والی رپورٹ پر ہیں۔ ہمارا اربوں ڈالر کا خزانہ چوری ہوا ہے اور چوروں نے گھر میں گھس کر نقب لگائ ہے۔
اگر اب بھی جنگی بنیادوں پر جوابدہی نہیں ہوتی تو شاید ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہ کریں اور ہمارے پاس انہیں دینے و دکھانے کے لیے کوئ قیمتی نوادرات باقی ہی نہ بچیں۔ وقت کی گرد جھاڑ کر تہذیب کے تحفظ کی مخلص کاوش کرنے والوں کی حوصلہ افزائ کرتے ہوئے ہمیں سب کو مل کر قومی ورثہ بچانے کی کاوش کرنے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ تہذیبوں کے چور تو اپنے قبیح کام پر دن رات جتے ہی ہوئے ہیں۔





