استنبول: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے صدور نے پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جنگ بندی ہو چکی ہے اور اب ضروری ہے کہ امن کے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔
استنبول میں پاکستان-ترکیہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں پاکستان نے خلوص نیت سے کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل سفارتی مشن تھا، تاہم اللہ کے فضل سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خطے میں امن کے قیام سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو اس مشکل وقت میں ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی، جبکہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں مسلح افواج نے دشمن کو ایسا جواب دیا جو تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان توانائی اور متبادل توانائی کے شعبوں میں ترک سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کے حصول کے لیے دونوں ممالک پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا اور صدر رجب طیب اردوان کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔
اس سے قبل وزیراعظم نے استنبول میں ترک سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں بھی کیں، جن میں پاک-ترک اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
وزیراعظم نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں توانائی، کان کنی، آئی ٹی، انفراسٹرکچر اور نجکاری سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
ترک سرمایہ کاروں نے پاکستان میں اپنے کاروباری آپریشنز میں توسیع میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی معاشی اصلاحات پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ وزیراعظم نے ملک میں سرمایہ کاری دوست ماحول برقرار رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔






