ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے پہلی بار انٹرویو ہوں گے، اعظم نذیر تارڑ

0
844

لاہور: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے پہلی بار انٹرویو کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے لیے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور اس کی پاسداری ناگزیر ہے، جبکہ پنجاب بار کونسل وکلا کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلا اور ان کے اہل خانہ کے علاج کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جا رہی ہے، جس کے تحت کینسر، گردے، جگر اور دل کے امراض کا علاج سرکاری اور نجی اسپتالوں میں کرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بار ایسوسی ایشنز کو 135 کروڑ روپے فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ بار ووکیشنل کورس کے لیے مزید 2 کروڑ روپے دینے کا اعلان بھی کیا۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے پہلی مرتبہ انٹرویوز لیے جائیں گے اور 7 رکنی کمیٹی تجویز کردہ امیدواروں کے انٹرویوز کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سول جج اور ایڈیشنل سیشن جج کی تعیناتی کے لیے امتحان لیا جاتا ہے تو ہائیکورٹ کے ججز کے لیے انٹرویو کیوں نہیں ہو سکتے؟ ججز کی تقرری کا عمل مکمل طور پر میرٹ پر ہونا چاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ پہلی بار ججز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے آئینی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت ججز ایویلیوایشن کمیٹی ہر سال کے اختتام پر ججز کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں بعض اوقات وکلا کو پہلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے مقدمے کا فوری فیصلہ نہیں ہوگا، جبکہ عدالتی نظام میں بروقت انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ججز قابل احترام ہیں، تاہم عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں، اس لیے کارکردگی بھی یکساں ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ جس جج کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہوگی، ایویلیوایشن کمیٹی اس کے خلاف ریفرنس تیار کرکے جوڈیشل کمیشن کو بھیج سکے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر جج کو برطرف کرنے کی سفارش بھی کی جا سکے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا