ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد ایران یا کسی دوسرے ملک کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق معاہدے کے ذریعے کسی ملک کو ہدف نہیں بنایا گیا، تاہم اگر کوئی ملک معاہدے کے کسی رکن پر حملہ کرتا ہے تو اس کے خلاف تینوں ممالک مشترکہ طور پر دفاع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے، جس کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ معاہدے کے تحت وزرائے خارجہ پر مشتمل ایک کمیٹی اور جنرل سیکرٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا، جو دفاعی تعاون اور مشترکہ امور کو مربوط کرے گا۔
انہوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی سکیورٹی کو ترکیہ کے مفادات سے بھی منسلک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے قائم کی جانے والی بین الاقوامی اتحادی کوششوں میں ترکیہ کو بھی شامل ہونا چاہیے۔
ترک وزیر خارجہ نے دفاعی معاہدے میں مصر کی ممکنہ شمولیت کا بھی عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض تکنیکی معاملات طے ہونے کے بعد مصر کے معاہدے میں شامل ہونے کا امکان موجود ہے۔





