اہم فوجی تعیناتیاں اور حکومت جانے کی افواہیں

0
170
سندر شعیب ایڈووکیٹ

ملک سندر شعیب ایڈووکیٹ

پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات اہم انتظامی یا عسکری فیصلوں کے ساتھ ایسی قیاس آرائیاں بھی جنم لیتی ہیں جنہیں سیاسی حلقوں، سوشل میڈیا اور بعض تجزیوں میں حکومت کی ممکنہ تبدیلی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اہم فوجی تعیناتیوں، اعلیٰ عسکری کمانڈ کے ڈھانچے میں تبدیلیوں، سیاسی کشیدگی اور آئندہ احتجاجی سرگرمیوں کے تناظر میں بھی حکومت کے مستقبل سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ تاہم کسی بھی حکومت کے خاتمے یا فوری تبدیلی کے بارے میں بات کرتے وقت افواہ، سیاسی تجزیے اور سرکاری طور پر تصدیق شدہ حقیقت میں فرق رکھنا ضروری ہے۔

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران عسکری کمانڈ کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ جولائی 2026 میں لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو ترقی دے کر چار ستارہ جنرل بنایا گیا اور انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری گزشتہ سال کی آئینی اور قانونی تبدیلیوں کے بعد تشکیل پانے والے نئے دفاعی انتظام کا حصہ ہے۔ سرکاری طور پر وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کی ترقی اور تقرری کا اعلان کیا تھا۔

نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے قیام کو محض ایک معمول کی عسکری تعیناتی سمجھنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ یہ پاکستان کے اعلیٰ دفاعی اور اسٹریٹیجک کمانڈ ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ نئی ساخت میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ بھی مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داری بھی ادا کر رہے ہیں۔ اسی نئی کمانڈ ساخت کے تحت جنرل عامر رضا کو نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی سربراہی سونپی گئی۔یہاں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اعلیٰ عسکری تعیناتیوں کو براہ راست حکومت کی تبدیلی کے ساتھ جوڑ دینا درست سیاسی تجزیہ نہیں۔

کسی جنرل کی ترقی، تبادلہ یا نئی ذمہ داری معمول کی ادارہ جاتی ضرورت، کمانڈ کی تنظیم نو یا قانون میں ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔ جنرل عامر رضا کی تقرری کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے انہیں نشان امتیاز ملٹری بھی عطا کیا، جبکہ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اعلیٰ عسکری سطح پر ایک بڑی تقرری کے بعد فوج کے سینئر کمانڈ میں دیگر تبدیلیوں کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ بعض رپورٹوں میں جنرل عامر رضا کی نئی ذمہ داری کے بعد سینئر افسران کی ترقیوں اور تقرریوں کے ممکنہ عمل کا ذکر کیا گیا۔

ایسے معاملات میں سنیارٹی، خالی ہونے والی اسامیوں، ادارہ جاتی ضروریات اور معمول کی مدتِ تعیناتی جیسے عوامل اہم ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر نئی عسکری تعیناتی کو سیاسی حکومت کے مستقبل سے جوڑنا مناسب نہیں ہوگا۔دوسری طرف سیاسی میدان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے بدستور موجود ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو احتجاجی مارچ کی کال اور اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے ممکنہ امن و امان کے خدشات کے پیش نظر اقدامات نے سیاسی ماحول میں مزید تناؤ پیدا کیا ہے۔ 20 ستمبر کو عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری بھی اسی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی، جبکہ حکومت نے احتجاج سے متعلق سخت انتظامی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔

ایسے ماحول میں حکومت کے جانے کی افواہیں تیزی سے پھیلنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں حکومتوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد، اسمبلیوں کی تحلیل، قبل از وقت انتخابات، اتحادی جماعتوں کے اختلافات اور احتجاجی تحریکوں کے دوران اس نوعیت کی قیاس آرائیاں بارہا سامنے آتی رہی ہیں۔ لیکن افواہ کو حقیقت تصورکرنے کے لیے آئینی، پارلیمانی یا سرکاری سطح پر واضح پیش رفت ضروری ہوتی ہے۔

موجودہ صورت حال میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رابطہ کمیٹیوں نے ستمبر میں اتحادی حکومت کے استحکام اور باہمی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں جماعتوں نے واضح کیا کہ ان کا اتحاد عارضی نہیں بلکہ سیاسی اور قومی استحکام کے لیے طویل المدتی شراکت داری ہے۔حکومت کی طرف سے بھی ایسے کوئی واضح اقدامات سامنے نہیں آئے جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکے کہ وزیراعظم شہباز شریف فوری طور پر منصب چھوڑنے والے ہیں۔ اگست میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کہا تھا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی اور وزیراعظم شہباز شریف پانچ سالہ مدت پوری کریں گے۔

یہ ایک حکومتی سیاسی مؤقف ہے، جسے حکومت کے نقطۂ نظر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ مستقبل کی قطعی ضمانت کے طور پر۔حکومت کے مستقبل کا اصل امتحان سیاسی بیانات سے زیادہ پارلیمانی حمایت، اتحادی جماعتوں کے باہمی تعلقات، معاشی کارکردگی، امن و امان کی صورت حال اور اپوزیشن کے احتجاج سے نمٹنے کی صلاحیت ہوگی۔

اگر حکومتی اتحاد قائم رہتا ہے، پارلیمان میں اکثریت برقرار رہتی ہے اور اہم اتحادی جماعتیں حکومت کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں تو محض افواہوں کی بنیاد پر حکومت کی تبدیلی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے برعکس اگر اتحادی تعلقات میں بنیادی تبدیلی آتی ہے، پارلیمانی اکثریت متاثر ہوتی ہے یا کوئی آئینی عمل شروع ہوتا ہے تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔اس پورے معاملے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں فوجی اور سیاسی معاملات اکثر ایک دوسرے سے الگ نہیں دیکھے جاتے۔

ملکی سلامتی، دہشت گردی، علاقائی کشیدگی اور دفاعی پالیسی جیسے معاملات میں عسکری قیادت کا کردار فطری طور پر اہم ہے، جبکہ خارجہ پالیسی، داخلی سلامتی اور اقتصادی پالیسی میں حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ بھی ضروری ہے۔ موجودہ علاقائی حالات میں یہ رابطہ مزید اہم ہوگیا ہے۔ پاکستان ایک طرف افغانستان سے جڑی سیکیورٹی مشکلات، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات سے نمٹ رہا ہے اور دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورتحال کے اثرات بھی اس کی خارجہ اور دفاعی پالیسی پر پڑ رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ہنگو اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں اور جوابی کارروائیوں نے بھی داخلی سلامتی کو اہم ترین قومی ترجیحات میں برقرار رکھا ہے۔ایسے حالات میں اعلیٰ عسکری کمانڈ میں ادارہ جاتی تسلسل کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے۔ اسی طرح سیاسی حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ افواہوں کے بجائے پارلیمانی اور آئینی عمل کے ذریعے اپنے فیصلوں کو آگے بڑھائے۔ حکومت کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ وہ پارلیمان، اتحادیوں، عدلیہ، عوام اور ریاستی اداروں کے ساتھ آئینی حدود میں رہتے ہوئے کس طرح معاملات چلاتی ہے۔

اہم فوجی تعیناتیوں کے حوالے سے ایک محتاط سیاسی تجزیہ یہی بنتا ہے کہ موجودہ فیصلوں کو سب سے پہلے دفاعی اور ادارہ جاتی تنظیم نو کے تناظر میں دیکھا جائے۔ نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی تشکیل اور جنرل عامر رضا کی تقرری ایک واضح اور دستاویزی فیصلہ ہے، جبکہ حکومت کے خاتمے سے متعلق گردش کرنے والی باتیں اس وقت تک سیاسی قیاس آرائیاں ہیں جب تک کوئی آئینی یا پارلیمانی پیش رفت سامنے نہ آئے۔پاکستان میں سیاسی استحکام کے لیے سب سے اہم ضرورت یہی ہے کہ ریاستی اور سیاسی معاملات کو افواہوں کے بجائے آئین، قانون اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے دیکھا جائے۔

حکومت کو اگر عوامی حمایت، معاشی استحکام اور سیاسی اعتماد حاصل کرنا ہے تو اسے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کرنا ہوگا، جبکہ اپوزیشن کے لیے بھی پارلیمانی اور آئینی ذرائع سے اپنا سیاسی مؤقف منوانا بنیادی راستہ ہے۔ اسی طرح عسکری اداروں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سیاسی قیاس آرائیوں سے الگ رکھنا ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور قومی استحکام کے لیے اہم ہے۔اس وقت دستیاب سرکاری معلومات میں حکومت کی فوری رخصتی کا کوئی باضابطہ اعلان یا آئینی عمل سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب اہم عسکری تعیناتیاں اور کمانڈ اسٹرکچر میں تبدیلیاں حقیقتاً ہوئی ہیں۔

اس لیے موجودہ صورتحال کو ’’حکومت جانے والی ہے‘‘ کے قطعی دعوے کے بجائے ایک ایسے سیاسی مرحلے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا جس میں عسکری کمانڈ کی تنظیم نو، حکومت اور اپوزیشن کی کشیدگی، اتحادی سیاست اور آئندہ احتجاجی سرگرمیاں ایک ساتھ قومی منظرنامے کو متاثر کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اصل اہمیت افواہوں کی نہیں بلکہ عملی سیاسی فیصلوں، پارلیمانی اعداد و شمار اور آئینی اقدامات کی ہوگی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا