عمران رشید
پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے جس میں ایک طرف حکومت میکرو اکنامک استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف مہنگائی، مہنگے ایندھن، زرعی لاگت اور سیاسی بے چینی نے عوامی سطح پر بے اطمینانی پیدا کر رکھی ہے۔ ایسے ماحول میں جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مارچ، کسان اتحاد کی 25 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاجی سرگرمی اور پاکستان تحریک انصاف کی 27 ستمبر کی احتجاجی کال ایک ہی عرصے میں سامنے آ رہی ہیں۔ ان احتجاجات کے معاشی اثرات صرف سڑکوں کی بندش تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تجارت، ٹرانسپورٹ، روزگار، سرمایہ کاری، سرکاری محصولات اور کاروباری اعتماد تک پھیل سکتے ہیں، تاہم ان اثرات کی شدت کا انحصار احتجاج کی مدت، پھیلاؤ اور امن و امان کی صورتِ حال پر ہوگا۔جماعت اسلامی نے اگست سے پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق اس کی تحریک کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور ایندھن پر عائد ٹیکسوں میں کمی ہے۔ 3 ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال بھی دی گئی، جبکہ 20 ستمبر کو کراچی سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا گیا۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ مہنگا پٹرول نقل و حمل، خوراک، بجلی، زراعت اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔معاشی اعتبار سے ایندھن کے نرخ واقعی ہر شعبے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ صرف موٹر گاڑی چلانے والے صارف تک محدود نہیں رہتا بلکہ مال برداری، بسوں، رکشوں، زرعی مشینری، صنعتی پیداوار اور اشیائے خورونوش کی ترسیل کی لاگت بھی بڑھتی ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی کے احتجاج کی بنیاد میں موجود ایندھن سے متعلق مطالبات کا تعلق براہ راست عوامی قوت خرید اور کاروباری اخراجات سے ہے۔ حکومت نے بھی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ہدفی فیول ریلیف اسکیم متعارف کرائی ہے۔تاہم احتجاج خود بھی معاشی لاگت پیدا کرسکتا ہے۔
اگر بڑے شہروں میں اہم شاہراہیں بند ہوں، بازار کئی روز تک بند رہیں، مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہو یا کاروباری مراکز معمول کے مطابق کام نہ کرسکیں تو پیداوار اور خریدوفروخت دونوں میں کمی آتی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 20 ستمبر کو کہا کہ احتجاج اور دھرنوں سے ملکی معیشت کو تقریباً 120 ارب روپے روزانہ کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ حکومتی تخمینہ ہے اور اس کے طریقۂ حساب کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئیں، اس لیے اسے حتمی قومی نقصان کے بجائے حکومت کی جانب سے پیش کردہ تخمینہ سمجھنا چاہیے۔کسان تحریک کا معاشی پہلو اس سے مختلف اور زیادہ بنیادی ہے۔ کسان اتحاد نے 25 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کا اعلان کرتے ہوئے گندم کی خریداری پالیسی، زرعی مداخل کی قیمتوں، ڈیزل کے نرخ، پانی، فصلوں کی قیمت اور دیگر مسائل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کسان رہنماؤں کے مطابق آئندہ گندم کی فصل کی بوائی قریب ہے لیکن مختلف صوبوں میں خریداری کی پالیسی کے بارے میں اب بھی غیر یقینی موجود ہے۔ کسان اتحاد نے اس کے ساتھ گنے کے لیے 650 روپے فی 40 کلو کم از کم امدادی قیمت اور زرعی پیداوار کی لاگت میں کمی کے مطالبات بھی اٹھائے ہیں۔
زراعت کا مسئلہ سڑکوں پر احتجاج سے کہیں بڑا معاشی سوال ہے، کیونکہ گندم، چاول، کپاس، گنا، سبزیاں اور پھل نہ صرف ملکی خوراک کا حصہ ہیں بلکہ ٹیکسٹائل، شوگر، آٹا، چاول، خوردنی مصنوعات اور برآمدی صنعت سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ کسان اتحاد کا کہنا ہے کہ گندم کے کاشتکاروں کو مسلسل نقصانات کا سامنا رہا اور بعض علاقوں میں اس کے نتیجے میں گندم کی کاشت کم ہوئی ہے۔ یہ کسانوں کا مؤقف ہے، جسے سرکاری اعدادوشمار اور آزاد زرعی جائزوں کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے، لیکن اگر کسان واقعی فصلوں کی کاشت سے پیچھے ہٹنے لگیں تو طویل مدت میں خوراک کی درآمد اور زرِمبادلہ کے استعمال میں اضافہ ہوسکتا ہے۔یہ پہلو موجودہ تجارتی صورتِ حال میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے جولائی اور اگست 2026 کے تجارتی اعدادوشمار کے مطابق پہلے دو ماہ میں تجارتی خسارہ 7.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ اسی عرصے میں گزشتہ سال یہ 6.03 ارب ڈالر تھا۔ ایسے وقت میں اگر زرعی پیداوار میں کمی آتی ہے اور خوراک، کپاس یا دیگر زرعی اجناس کی درآمد بڑھتی ہے تو درآمدی بل پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف بہتر زرعی پیداوار پاکستان کو برآمدات بڑھانے اور درآمدی ضرورت کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا 27 ستمبر کا احتجاج اس پورے منظرنامے میں سیاسی نوعیت رکھتا ہے اور اس کا براہ راست اقتصادی تعلق کاروباری سرگرمیوں اور نقل و حمل سے بنتا ہے۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دی ہے، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ اس احتجاج کے لیے سرکاری وسائل یا سرکاری مشینری استعمال نہ ہو۔ حکومت نے احتجاج روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں احتجاج سے پہلے سیاسی کشیدگی بھی بڑھی ہے۔
اسلام آباد کا جغرافیائی اور انتظامی کردار بھی اس معاملے کو اہم بناتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں بڑے پیمانے کی سڑکوں کی بندش یا طویل دھرنے سے سرکاری دفاتر، سفارتی سرگرمیوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں، ریستورانوں اور چھوٹے کاروبار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر احتجاج صرف چند گھنٹوں یا ایک دن تک محدود رہے تو نقصان نسبتاً محدود رہ سکتا ہے، لیکن اگر یہ کئی روز تک جاری رہے یا ملک کے مختلف شہروں تک پھیل جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں بھی احتجاج سے معمولاتِ زندگی، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔مسئلہ صرف موجودہ نقصان کا نہیں بلکہ کاروباری اعتماد کا بھی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں نجی سرمایہ کاری پہلے ہی توانائی، مالیاتی لاگت اور پالیسی کے تسلسل جیسے مسائل سے متاثر ہوتی ہے، مسلسل سیاسی احتجاج کاروباری فیصلوں کو مؤخر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے یہ دیکھنا اہم ہوتا ہے کہ مارکیٹ تک رسائی، خام مال کی ترسیل، ملازمین کی نقل و حرکت اور مصنوعات کی بروقت سپلائی کتنی یقینی ہے۔ احتجاج بار بار اور طویل ہوجائے تو کاروباری ادارے اضافی لاگت برداشت کرتے ہیں اور بعض سرمایہ کاری کے فیصلے موخر کرسکتے ہیں۔ یہ اثر فوری اعدادوشمار میں ہمیشہ نظر نہیں آتا، لیکن طویل مدت میں معاشی سرگرمی پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پرامن احتجاج جمہوری معاشروں میں معاشی پالیسی پر عوامی دباؤ کا ایک آئینی و سیاسی ذریعہ ہوسکتا ہے، اور بعض اوقات یہی دباؤ حکومتوں کو ایسی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کرتا ہے جن کے باعث عوام یا کسی مخصوص شعبے پر غیر معمولی بوجھ پڑ رہا ہو۔ جماعت اسلامی کا ایندھن کے ٹیکس کے خلاف احتجاج، کسانوں کے زرعی قیمتوں سے متعلق مطالبات اور پی ٹی آئی کی سیاسی شکایات تین مختلف نوعیت کے مطالبات کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے ان احتجاجات کو صرف معاشی نقصان کے زاویے سے دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرے گا۔
اصل سوال یہ ہے کہ احتجاج کے نتیجے میں پالیسی اصلاح، مذاکرات اور قابل عمل حل پیدا ہوتے ہیں یا تعطل مزید بڑھتا ہے۔موجودہ معاشی حالات میں یہ سوال اس لیے زیادہ حساس ہے کہ اگست 2026 میں پاکستان کی سالانہ صارف قیمت افراط زر 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جو جولائی کے 9.2 فیصد سے زیادہ تھی، جبکہ دیہی افراط زر 12.2 فیصد رہی۔ اس دوران اسٹیٹ بینک نے 14 ستمبر کو پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا اور 4 ستمبر تک مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 23.7 ارب ڈالر رپورٹ کیے۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت میں کچھ مالیاتی گنجائش موجود ہونے کے باوجود مہنگائی اور بیرونی دباؤ کے مسائل بدستور اہم ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کا تناظر بھی اہم ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے معاشی پروگرام میں مالیاتی نظم، ذخائر کی بحالی، توانائی کے شعبے کی اصلاح، محصولات میں بہتری اور میکرو اکنامک استحکام مرکزی ترجیحات ہیں، جبکہ ستمبر 2026 میں پروگرام کے اگلے جائزے کا شیڈول بھی موجود ہے۔
ایسے ماحول میں بڑے پیمانے کے احتجاج حکومت کے لیے مالیاتی اور انتظامی فیصلوں میں مشکلات بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب حکومت کو ایک طرف عوامی ریلیف دینا ہو اور دوسری طرف مالیاتی اہداف برقرار رکھنے ہوں۔چنانچہ جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور پی ٹی آئی کے احتجاجات کے معاشی اثرات کو نہ تو مکمل تباہی کی تصویر سمجھنا چاہیے اور نہ ہی معمولی سیاسی سرگرمی قرار دینا مناسب ہوگا۔ مختصر اور پرامن احتجاج جس میں کاروبار اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق جاری رہیں، اس کا معاشی اثر محدود ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس ملک کے بڑے صنعتی، تجارتی اور زرعی مراکز میں طویل بندش، شاہراہوں کی مسلسل رکاوٹ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو تو روزانہ کی معاشی سرگرمی متاثر ہوسکتی ہے۔پاکستان کی معیشت کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت سیاسی کشیدگی کے بجائے پالیسی کے تسلسل، کاروباری اعتماد، زرعی اصلاحات، توانائی کی لاگت میں کمی اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی ہے۔
حکومت کے لیے ضروری ہے کہ احتجاجی مطالبات کو صرف انتظامی مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ ان کے معاشی اسباب پر بھی توجہ دی جائے۔ جماعت اسلامی کے مطالبات میں ایندھن اور بجلی کی لاگت، کسانوں کے مطالبات میں پیداوار اور قیمتوں کا مسئلہ، جبکہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں سیاسی اور آئینی معاملات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مختلف مطالبات کو مذاکرات، پارلیمانی عمل اور قانون کے دائرے میں حل کرنے کی کوشش معیشت کے لیے بھی زیادہ قابل پیش گوئی ماحول فراہم کرسکتی ہے۔آخرکار کسی بھی احتجاج کا اصل معاشی اثر اس بات سے طے ہوگا کہ وہ کتنا وسیع، کتنا طویل اور کس قدر پُرامن رہتا ہے۔ وقتی کاروباری نقصان بعض اوقات برداشت کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر احتجاجی سیاست مستقل تعطل میں تبدیل ہوجائے تو اس کا اثر روزگار، سرمایہ کاری، محصولات، برآمدات اور عوامی قوت خرید تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر احتجاج حکومت کو ایسے معاشی مسائل کے حل کی طرف لے جائے جو واقعی عوام اور پیداوار دونوں کو متاثر کر رہے ہیں تو اس کے نتیجے میں طویل مدت میں بعض مثبت معاشی اصلاحات بھی سامنے آسکتی ہیں۔ موجودہ مرحلے میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ برقرار رہتے ہوئے بھی قومی معیشت کی بنیادی سرگرمیوں، خوراک کی فراہمی، سپلائی چین اور کاروباری نظام کو غیر ضروری تعطل سے محفوظ رکھا جائے۔





