اتحادیوں کے بغیر حکومت معیشت کی بحالی کا مشکل کام نہیں کر سکتی تھی،شہبازشریف

0
130

اسلام آباد(طلوع نیوز)وزیراعظم شہبازشریف سے اتحادی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کی الگ الگ ملاقاتیں ،نگران وزیراعظم کے چناؤ ،عام انتخابات کے انعقاد سمیت ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وفد میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی سید امین الحق اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری شامل تھے۔ وفد نے ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری میں ان کے تحفظات دور کرنے اور مردم شماری سے متعلق ان کی تجاویز کی شمولیت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری خیریت سے مکمل ہو گئی اور نتائج کی منظوری تمام سیاسی جماعتوں کی اتفاق رائے سے ہوئی۔ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ وفد نے وزیراعظم کو سندھ بالخصوص کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر برائے پاور انجینئر خرم دستگیر بھی موجود تھے۔دریں اثنا وزیراعظم شہبازشریف سے سابق وزیرِ اعظم و سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی اور رکن قومی اسمبلی علی موسی گیلانی نے بھی ملاقات کی ۔ ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں یوسف رضا گیلانی نے وزیرِ اعظم کو ملک کے مشکل وقت میں شاندار قیادت فراہم کرنے اور ملکی معاشی صورتحال کی بہتری پر خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کے ہر فیصلے میں ساتھ دیا جس کا بے حد شکر گزار ہوں۔ اتحادیوں کے تعاون کے بغیر حکومت ملکی معیشت کی بحالی کا مشکل کام کبھی اکیلے نہ کر سکتی تھی۔

دریں اثنا ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک منصوبوں نے پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار اداکیا جس سے نہ صرف ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور معاشی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ ہم نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کےتحت سی پیک منصوبوں کے 10 سال مکمل ہونے کے تقریبات منائی ہیں۔ یہ منصوبہ چینی صدر شی جن پنگ کی ذہانت اور وژن کا عکاس ہے۔ ان منصوبوں کے باعث چینی کمپنیوں نے 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی ہے۔صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چینی حکومت اور کمپنیاں پاکستان میں معاشی منظر نامے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے جس میں گرین کوریڈور ، انوویشن ، آئی ٹی کوریڈور ، خصوصی اقتصادی زونز جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ یہ سی پیک کے تحت چینی اور پاکستانی حکومت کے کاروباری منصوبے ہیں۔سپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) حکومت کا اہم اقدام ہے۔ یہ کثیر الجہتی فورم ہے جس میں وفاق ، صوبائی اکائیوں اور پاک فوج کی نمائندگی شامل ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اس معاملے میں سرگرمی سے حصہ لے رہےہیں۔وہ پاکستان کے کاز کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ ایسے نوجوان جن کے پاس تعلیم اور ٹیلنٹ تو ہےمگر ان کے پاس ملازمتیں نہیں ہیں ان کو اس سے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور وہ قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔ اس سے ملک کی صنعتوں اور زراعت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ایس آئی ایف سی ملک کی ترقی ، سرمایہ کاری اور زرعی شعبہ کے فروغ کے لئے اہم روڈ میپ ہے۔چینی ناظم الامور نے نہ صرف سی پیک منصوبوں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ۔ جب پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا تھا اور ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام میں مشکل چیلنج کاسامنا تھا۔ صدر شی جن پنگ ، چینی حکومت اور چین ناظم الامور نے ہماری ذاتی طورپر مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں نے پاکستان میں بہترین کام کیا ہے۔چینی کمپنیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مشکل وقت ختم ہو گیا ہے۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہم نے اپنے طریقہ کار کو آسان بنا دیا ہے۔ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔قبل ازیں تقریب سےخطاب کرتےہوئے وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری چوہدری سالک حسین نے کہا کہ چینی کمپنیوں اور بینکوں نے دونوں ممالک کامشترکہ خواب پورا کرنے کے لئے بھرپور محنت سے کام کیا ۔ سی پیک انفراسٹرکچر کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ پاکستان میں چین کی ناظم الامور پینگ چنکسونے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین سی پیک کو 10 سال مکمل ہونے کی تقریبات منا رہے ہیں۔سی پیک منصوبوں کی رفتار تیزکرنے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین دوستی کے منفرد رشتے میں جڑے ہیں جو اعتماد پرقائم ہیں۔ صدر شی جن پنگ نے سی پیک کی 10 ویں سالگرہ پر تہنیتی خط بھیجا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2013 میں شروع کئے گئے سی پیک منصوبے کو دونوں ملکوں نے اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ سی پیک کو آگے بڑھانے کے لئے اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دیں گے۔دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کے لئے باہمی شراکت داری کو فروغ دیاجا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سی پیک اور ترقیاتی کاموں میں خدمات سرانجام دینے والی چینی کمپنیوں اور بینکوں کے نمائندگان میں ایوارڈز تقسیم کئے ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے توانائی انجینئر خرم دستگیر، وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری چوہدری سالک حسین ، چینی ناظم الامور کے علاوہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا