امریکہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بڑھتے ہوئے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے ۔وائٹ ہائوس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے انتظامیہ کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت جنگ بندی صرف حماس کو فائدہ دے گی۔جان کربی نے منگل کو وائٹ ہاس کی نیوز بریفنگ کے دوران وائس آف امریکہ کو بتایا کہ “ہم انسانی بنیادوں پر وقفوں کی حمایت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن فی الحال عام جنگ بندی کی نہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر بالکل بھی کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں دے رہے۔پیر کو الیکشن مہم کے دوران ایک شہری کی جانب سے خلل ڈال کر غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر زور دینے کے جواب میں بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ خاموشی سے اسرائیلی حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور وہ غزہ میں ان (اسرائیل) کی ( موجودگی) کم کرنے اور نمایاں طور پر غزہ سے باہر نکالنے کے لیے مصروف ہیں۔جنوبی کیرولائنا میں منعقدہ پروگرام کے دوران فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے گروپ کو مخاطب کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا تھا کہ میں جذبات کو سمجھتا ہوں۔اس معاملے پر نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں مڈل ایسٹ اسٹڈیز کی پروفیسر وینڈی پرل مین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن کا بیان امریکی عوام کی توہین ہے جو امریکی قیادت سے جنگ روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی مالی، فوجی اور سفارتی حمایت پر زور دیتے ہوئے وی او اے کو بتایا کہ جب بائیڈن انتظامیہ کے اسرائیل پر کیے گئے اقدامات اتنی بلند آواز میں بولتے ہیں، تو پردے کے پیچھے سرگوشیوں کے بارے میں بات کرنا شرم ناک لگتا ہے۔پرل مین ان 1350 سے زائد امریکی سیاسیات کے ماہرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں بائیڈن اور دیگر امریکی سیاسی رہنماں سے غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے دبا ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا۔






