وزرائے خارجہ کا رابطہ ،ایران نے روس کو اسرائیل پرحملے سے پہلے اعتماد میں لیا

0
333

تہران :- ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف نے تہران اور ماسکو کے تعلقات کے ساتھ ساتھ شام میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حکومت کے حالیہ حملے سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے دونوں وزرائے خارجہ نے ہفتہ کے روز فون پر بات چیت کی۔امیر عبداللہیان نے 2 اپریل کو اسرائیلی حملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد کرنے پر روس کا شکریہ ادا کیا،

دریں اثنا انہوں نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ دوہرا معیار کی پالیسیاں اپنا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن نے سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو روک دیا ہے جس میں قونصل خانے پر حملے پر اسرائیلی حکومت کی مذمت کی جانی چاہیے تھی۔ دوسری جانب روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارتی مشنز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور تمام ممالک کو ایسے اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کی ممالک کو بھی مذمت کرنی چاہیے۔ علاوہ ازیں اپنی فون کال میں امیر عبداللہیان اور لاوروف نے غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ بھی قیاس کیا جاتا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے
اپنے ہم منصب کو اسرائیل پر حالیہ اپنے میزائل حملوں پر قبل از وقت آگاہ کرتے ہوئے اعتماد میں لیا

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا